خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 228
228 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم لِي فِي ذُرِّيَّتِي (الاحقاف : 16) میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں۔اور اکثر بیوی کی وجہ سے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 456۔جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ ) تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، جائزہ لیں تو یہ 100 فیصد حقیقت نظر آئے گی کہ ان ملکوں میں بعض خاندان اس لئے بھی ابتلا میں پڑ گئے کہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ غیروں میں شادیاں کرنے سے نسلیں برباد ہو جاتی ہیں اور دین سے دور چلی جاتی ہیں۔کئی ایسے دور ہٹے ہوئے ہیں جن کو اب ہٹنے کا احساس ہو رہا ہے۔یہاں جو خاندان آئے ہیں ان کے حالات اپنے پہلے ملک کی نسبت بہر حال بہتر ہیں۔یہ بہتری آپ کو دین سے دور لے جانے والی اور اپنی قدروں اور اپنی تعلیم اور اپنی روایات کو بھلانے والی نہیں ہونی چاہئے۔بعض دفعہ وہ جو غلطی کرتے ہیں پھر نظام جماعت کی طرف سے بعض دفعہ کوئی سختی ہو تو پھر نظام کو الزام دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو گئی یا جماعت سے نکال دیا گیا یا ہماری بدنامی کی گئی۔اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو گا اور دین کا علم ہوگا تو یہ صورتحال بھی پیدا نہیں ہوگی۔پس خود بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی جماعت سے اور خلافت سے تعلق جوڑے رکھیں اور اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ہمیشہ یادرکھیں۔ایک روایت میں آتا ہے شھر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے کہا اے ام المؤمنین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کے پاس ہوتے تھے تو کونسی دعا بکثرت کیا کرتے تھے۔انہوں نے فرمایا آپ اکثر یہ دعا کرتے کہ اے دلوں کے الٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات بخش ، ثابت قدم رکھ۔آپ نے فرمایا اے ام سلمہ ! ہر آدمی کا دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان ہے جس کے لئے چاہے اس کو قائم کر دے اور جس کے متعلق چاہے اس کو ٹیڑھا کر دے۔(ترمذى كتاب الدعوات باب ما جاء فى عقد التسبيح باليد باب نمبر 89 حدیث نمبر (3522 ) پس ہر احمدی کو یہ دعا کرنی چاہئے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو دے دی ہے۔اس کو ہمیشہ دلوں میں بٹھائے رکھیں لیکن یہ بغیر اللہ کے فضلوں کے نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ اس کا ذکر کرنا ہے اس کو یاد رکھنا ہے۔پس اپنے اندر بھی اور اپنی اولادوں کو بھی اس کی عادت ڈال دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل جو ہر قسم کے شرک سے پاک تھا، جس پر اللہ تعالیٰ کی پاک وحی نازل ہوئی اگر آپ اس کثرت سے دعا کرتے تھے تو ہمیں اس کی طرف کس قدر توجہ دینی چاہئے۔پس ہمیں چاہئے کہ اس نعمت کی قدر کریں، اللہ سے مدد مانگیں، تو بہ واستغفار کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے آگے جھکے رہیں تاکہ حقیقت میں اسلام کی صحیح تعلیم پیش کرنے والے ہوں۔kh5-030425