خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد چہارم 214 خطبہ جمعہ 28 اپریل 2006 ء ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔(ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی ترک الصلوۃ 2618 ) یعنی جو نماز نہیں پڑھتا وہ مومن نہیں ہے۔پس اللہ کے حکم کے مطابق اپنی نمازوں کی بہت حفاظت کریں، یہ آپ پر فرض کی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی زاہدانہ زندگی یعنی انسان کی نیکی کی زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے، یعنی کہ جھکا رہتا ہے، روتا ہے: ”امن میں رہتا ہے“۔جو انسان دعائیں مانگتا ہے وہ امن میں رہتا ہے جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔اسی طرح پر نماز میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ یعنی اپنے آپ کو عاجز کر کے رونا اور گڑ گڑانا۔فرمایا ” خدا کے حضور گڑ اگر نے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ جو رب ہے اس کی مہربانی اور شفقت اور پیار کی گود میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔یا درکھو اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا۔یعنی اس شخص نے اپنے ایمان کا مزا نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔جس کو نماز میں مزا نہیں آیا۔نماز پڑھتے ہوئے مزا آنا چاہئے تبھی ایمان کا مزا ہے۔نہیں تو ایمان کے بھی زبانی دعوے ہیں۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے بعض لوگ نماز کوتو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی دانہ کھاتے ہوئے ٹھونگیں مارتی ہے، ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں۔حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا۔اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں۔اور حضور الہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں۔نماز میں دعا مانگو،نمازکو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔فاتحہ، فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔مومن کو مومن اور کافر کو کافر بنا دیتی ہے۔یعنی دونوں میں ایک امتیاز پیدا کر دیتی ہے فرق پیدا کر دیتی ہے اور دل کو کھولتی، سینہ میں ایک انشراح پیدا کرتی ہے۔انسان کے دل میں اس سے ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ کو بہت پڑھنا چاہئے۔﴿ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ سے جو شروع ہوتی ہے اس کو سورۃ فاتحہ کہتے ہیں اور اس دعا پر خوب غور کرنا ضروری ہے۔انسان کو واجب ہے کہ وہ ایک سائل کامل اور محتاج مطلق کی صورت بناوے“۔یہ ضروری ہے ہر انسان کے لئے کہ ایک ایسا سوالی ہو جو کسی سے سوال کرنے میں بالکل پیچھے پڑنے والا سوالی ہو جائے۔اور ایسی شکل بنائے جس kh5-030425