خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 211
خطبات مسرور جلد چہارم 211 خطبہ جمعہ 28 اپریل 2006 ء انبیاء علیہم السلام کی دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں۔حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے۔پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی۔یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف رہبری کرتا ہوں“۔یعنی گناہ سے بچنے کا راستہ دکھا تا ہوں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 8 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس دیکھیں یہ سب سے بڑا مقصد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا کہ خدا کی پہچان کروائیں اور جب بندے کو خدا کی پہچان ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔پس آپ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان لیا آپ کی بیعت میں شامل ہو گئے تو اپنا جائزہ لیں ، ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے کہ یہ جو مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آنے کا بیان فرمایا ہے اور سب سے بڑا مقصد یہی بیان فرمایا ہے، اور بھی مقاصد ہیں لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا سب سے بڑا مقصد ہے پھر بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے اور یہ سارے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔تو جیسا کہ میں کہہ رہا تھا اس مقصد کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اور جب ہم اس مقصد کو سامنے رکھیں گے تو ہمیں خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے اور عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔اگر ہمیں اللہ کے حضور جھکنے اور اس کی پہچان کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی تو ہمارا یہ صرف نام کی بیعت کر لینا بے فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو شرائط بیعت ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ہر آدمی اپنے آپ کو جماعت احمدیہ میں شامل کرتا ہے۔اگر آپ ان کو پڑھیں تو پتہ لگتا ہے کہ آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔ہمیں کیا بنانا چاہتے ہیں۔دوسرے اس اقتباس میں جو میں نے پڑھا ہمارے ان بھائیوں کا بھی جواب آ گیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مجدد تھے، مصلح تھے ، لیکن نبی نہیں تھے۔آپ نے یہ لکھ کر کہ میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی، واضح فرمایا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا درجہ عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور بہت ساری جگہوں پر لکھا ہوا ہے کہ میری حیثیت نبی کی ہے اور یہ بھی کہ آپ کس حیثیت سے نبی ہیں۔بہر حال میں نے یہ اقتباس پڑھا تھا تو ضمناً یہ بات بھی سامنے آ گئی۔آپ کی نبوت ایسی نبوت ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں kh5-030425