خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 206

206 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اعلیٰ مقصد کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔آپ کی شرائط بیعت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔پس ہر احمدی جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شمار کرتا ہے اس پر یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ یہ عہد آپ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کر رہے ہیں۔جس عہد کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ عہد بیعت میں ہم نے کیا ہے۔ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے دوسروں کو بھی کہنے کا ہمیں کیا حق ہے۔پس جیسے کہ میں نے پہلے کہا تھا تبلیغی میدان میں ترقی کرنے کے لئے بھی اپنی عملی حالتوں کو درست کرنا انتہائی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود نے یہی فرمایا ہے کہ اگر تم خود اپنی اخلاقی حالتوں کو درست نہیں کر رہے تو دوسروں کو تم کیا کہو گے۔پس اس حوالے سے دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں، اپنی عملی حالتوں کو درست کرتے ہوئے خدائے رحمن کا بندہ بنتے ہوئے اس کے اس خوبصورت اور حسین پیغام کو جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا اور جس کے پھیلانے کا کام اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے سپرد کیا ہے اس کو ملک میں پھیلائیں یہ اپنے جائزے لیں، دیکھیں، کہاں کہاں کمیاں ہیں، کہاں کمزوریاں ہیں ان کو پورا کرتے ہوئے اس کام کو بھی سنجیدگی سے سرانجام دینے کی کوشش کریں۔اس میں ابھی بھی بہت بڑا خلا باقی ہے۔جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیموں کا نظام بھی اس بارے میں پلاننگ کریں۔صرف روایتی بک سٹال یا صرف عشرہ تبلیغ منانے سے مقصد حاصل نہیں ہو سکتے۔صرف اتنا کام ہی کامیابی نہیں دلائے گا اس کے لئے مزید پلاننگ بھی کرنی ہوگی۔انفرادی رابطے ہیں اور دوسری چیزیں ہیں۔مختلف قوموں کے بارے میں جو یہاں آباد ہیں معلومات جمع کر کے پھر ان میں تبلیغ کے نئے ذرائع تلاش کریں، ہر طبقے کے پاس پہنچنے کی کوشش کریں اور پھر قائم شدہ رابطوں کو ہمیشہ قائم رکھیں ، ان کے ساتھ مسلسل تعلق اور رابطہ رکھیں۔اس ضمن میں یہ بھی بات کہنی چاہتا ہوں کہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے بلکہ چند ایک جو احمدی ہوئے ہیں ان کی شکایت بھی ہے کہ یہاں اکثریت کیونکہ پاکستانیوں کی ہے یہ ہمیں اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔اجلاس وغیرہ میں بھی ایسی زبان ہونی چاہئے کہ جو یہاں کی زبان ہے یعنی انگریزی میں کارروائی ہو، تا کہ جو یہاں جزائر kh5-030425