خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد چهارم 205 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ عہدیدار ہے یا عام احمدی ہے ، مرد ہے یا عورت ہے۔اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔جب غیر معمولی مثالی نمونے ہر جگہ قائم ہوں گے تو جماعت کی تبلیغی لحاظ سے بھی ترقی ہوگی اور تربیتی لحاظ سے بھی ترقی کرے گی۔آئندہ نسلیں بھی احمدیت کی تعلیم پر حقیقی معنوں میں قائم ہونے والی پیدا ہوں گی بلکہ یہ نسلیں جماعت کا ایک قیمتی اثاثہ بنیں گی۔زبان ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے محبتیں بھی پنپتی ہیں اور قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔اس کا صحیح استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے سوال پر اسلام کی یہ خوبی بیان فرمائی کہ وہ لا یعنی باتوں کو چھوڑ دے۔بلا مقصد کی بے تکی باتوں کو چھوڑ دے ایسی باتوں کو چھوڑ دے، جن سے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعلیٰ اخلاق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے، منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک کر یہ بھی دے دیا ہے“۔فرمایا کہ: " اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے۔جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے اپنے آپ کو نہ دیکھتا رہے، یہ اصلاح نہیں ہوتی۔زبان کی بد اخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں۔اس لئے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے۔دیکھو کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔پھر وہ شخص کیسا بے وقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قومی سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تربیت نہیں کرتا۔ہر شخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہئے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 262 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور یہی گر ہے جس کو اگر ہر فردا پنا لے تو جماعت کی ایک امتیازی شان قائم ہوسکتی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے!“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 590 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) kh5-030425