خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 189
189 خطبہ جمعہ 14 اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم پھر نماز میں سنوار اور نکھا رتب پیدا ہو گا جب نمازیں باجماعت ادا کی جا رہی ہوں گی کیونکہ ایک مومن پر نماز با جماعت فرض ہے۔قرآن کریم کا حکم ہے کہ نماز کو قائم کرو، اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شرائط کو قائم کرنے کی جو سنت ہمارے سامنے قائم فرمائی وہ مسجد میں جا کر نماز با جماعت ادا کرنے کی ہے۔ہمیں نماز با جماعت کی ادائیگی کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔(مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلاة باب فضل صلاة الجماعة حديث نمبر (1362) ایک دفعہ ایک نابینا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی کہ مجھے راستے کی ٹھوکروں کی وجہ سے مسجد میں آنے میں دقت ہے۔کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ پہلے تو آپ نے اجازت دے دی۔پھر فرمایا تمہیں اذان کی آواز آجاتی ہے؟ اس نے عرض کی جی آواز تو آ جاتی ہے۔آپ نے فرمایا پھر نماز کا حق یہ ہے کہ تم مسجد میں آ کر نماز ادا کیا کرو۔(مسلم کتاب المساجد باب يحب اتيان المسجد على من سمع النداء حديث نمبر (1371 ایک اور روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ : "آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ نے فرمایا ( سردی وغیرہ کی وجہ سے، موسم کی جو بھی شدت ہوتی ہے اس وجہ سے) دل نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کر نا اور مسجد میں دُور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ بھی ایک قسم کا رباط یعنی سرحد پر چھاؤنی قائم کرنے کی طرح ہے۔آپ نے یہ بات دو دفعہ فرمائی۔(مسلم كتاب الطهارة۔باب فضل اسباغ الوضوء على مكاره حدیث 476-475) پس ہم یہ چھاؤنیاں اپنے دلوں کی سرحد پر قائم کریں گے تو شیطان کے حملوں سے اپنے دل کو بچا کر رکھ سکیں گے۔ورنہ شیطان تو جس طرح اس نے پینج دیا ہوا ہے ہر راستے پر ہمارے پر حملہ کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راستباز ، ابدال، قطب گزرے ہیں۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب حاصل کئے؟ اس نماز کے ذریعے سے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : قُوَّةُ عَيْنِي فِی الصَّلوۃ۔یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کیلئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت صلی kh5-030425