خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 190

خطبات مسرور جلد چہارم 190 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 2006 ء 66 اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔( ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 605 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) نفس کی بھی بہت ساری باتیں ہیں۔یہ جو دنیا کی فکریں اور پریشانیاں ہیں ان سے چھٹکارا اسی نماز کے ذریعہ سے ملتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہ غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ با ہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 282 281) جماعت احمدیہ کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ طرہ امتیاز ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں احمدی کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تمام دنیا کے احمدیوں کو اس تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔یہ ایک وحدت کی نشانی ہے پس یہ وحدت ہمارے اندر اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ہم اپنی باجماعت نمازوں کا اہتمام کرتے چلے جائیں گے۔ایک بڑا طبقہ اس طرف توجہ دیتا چلا جائے گا۔اصولی طور پر تو 100 فیصد احمدیوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اور جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے رہیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ یہ وحدت بھی قائم رہے گی۔یہاں کیونکہ ہر جگہ ہماری مساجد نہیں ہیں۔یہاں بھی شاید لوگ فاصلے پر رہتے ہوں گے تو جو لوگ مسجد میں آ سکتے ہوں انہیں ضرور آنا چاہئے اور جو نہ آ سکتے ہوں وہ قریب کے گھر آپس میں مل کر نماز سینٹرز قائم کریں اور نماز با جماعت کا اہتمام کیا کریں۔اسی طرح دوسرے شہر کے لوگ ہیں جہاں بہت فاصلے کی ڈوری ہو وہاں گھر والے اکٹھے ہو کر نماز با جماعت کی عادت ڈالیں۔جس حد تک گھر اکٹھے ہو سکتے ہوں آپس میں مختلف گھر اکٹھے ہو جائیں، ایک جگہ سینٹر بنا لیں۔جہاں یہ بھی ممکن نہ ہو ، وہاں گھر کے سربراہ اپنے بیوی بچوں کو اکٹھا کریں اور نماز با جماعت کی اپنے گھر میں عادت ڈالیں۔اس سے جہاں باجماعت نماز ادا کرنے کی وجہ سے نماز کا 27 گنا ثواب لے رہے ہوں گے وہاں اپنے بچوں کے دلوں میں بھی نماز کی اہمیت پیدا کر رہے ہوں گے۔اور یہ اہمیت جب ان بچوں کی زندگیوں کا حصہ بن جائے گی تو پھر ہمیشہ kh5-030425