خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 170
خطبات مسرور جلد چهارم 170 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006ء تو نقصان بھی ہوگا۔بہر حال اگر دل میں ذرا سا بھی ایمان ہو تو ایسے لوگ جن کی غلطیوں کی وجہ سے ان سے چندہ نہیں لیا جاتا جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ان کی وصیت پر زد پڑتی ہے یا دوسرے لوگوں کے چندوں پہ۔تو کیونکہ احمدی ہیں، دل میں نیکی ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے، پھر ان کے دل بے چین ہو جاتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا پھر معافیاں مانگتے ہیں اور ان کے لئے بات بڑی سخت تکلیف دہ بن رہی ہوتی ہے۔تو جب نظام جماعت نے یہ اجازت دی ہوئی ہے کہ بعض آدمی مجبوریوں کی وجہ سے شرح کے مطابق چندہ نہیں دے سکتے تو رعایت لے لیں تو سچائی کا تقاضا یہ ہے کہ رعایتی شرح کی منظوری حاصل کر لی جائے، بجائے اس کے کہ غلط بیانی سے کام لیا جائے۔اور میں اس بارے میں کئی دفعہ کہ بھی چکا ہوں کہ ایسے لوگوں کو بغیر کسی سوال جواب کے رعایت شرح مل جائے گی۔تو ایک تو جو لوگ اپنی آمد غلط بتاتے ہیں وہ غلط بیانی کی وجہ سے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔دوسرے اس غلط بیانی کی وجہ سے اپنے پیسے میں بھی بے برکتی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جس خدا نے اپنے فضل سے حالات بہتر کئے ہیں وہ ہر وقت یہ طاقت رکھتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی مشکل میں گرفتار کر دے۔پس خدا تعالیٰ سے ہمیشہ معاملہ صاف رکھنا چاہئے۔اصل بات جو میں یہاں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مالی قربانی ذریعہ ہے تربیت کا اور نفس کو پاک کرنے کا۔اگر کچھ حصہ مالی قربانی بھی کر رہے ہیں اور غلط بیانی کر کے اپنی آمد کو بھی چھپا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا مالی قربانی کرنے والوں کے لئے ان کے نفسوں کو پاک کرنے کا جو وعدہ ہے اس سے تو پھر حصہ نہیں لے رہے ہوتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر انسان کے دل کا حال جانتا ہے، اس کے تمام حالات جانتا ہے، کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے تو ایسی مالی قربانی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اور پھر یہ بات تربیت میں کمی کا باعث بن رہی ہوتی ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی غلط نمونے قائم کر رہی ہوتی ہے اور جھوٹ بولنے کی وجہ بھی بن رہی ہوتی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ ایسے لوگ مکمل طور پر چندے سے رخصت حاصل کر لیا کریں اور غلط آمد بتانے کی وجہ سے جو جھوٹ کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں اس سے بچ جائیں۔کیونکہ جھوٹ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک کی طرف لے جانے والا ہے۔پس چند ایسے لوگ جو اس قسم کے طریق اختیار کئے ہوئے ہیں ان کے لئے اس میں بڑا انذار ہے۔اللہ ہر احمدی کو اس سے بچائے اور ہم مالی قربانی دلی خوشی سے کرنے والے ہوں نہ کہ بوجھ سمجھ کر۔اللہ کی خاطر کی گئی قربانیوں کو اللہ کا فضل سمجھ کر کریں نہ کہ یہ خیال ہو کہ ہم جماعت پر یا خدا تعالیٰ پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھ پر احسان کسی نے کیا کرنا ہے۔میں تو ان قربانیوں کو جو تم کر رہے ہوتے ہو کئی گنا بڑھا کر تمہیں دیتا ہوں تمہیں واپس لوٹا رہا ہوتا ہوں۔پس یہ سودا تمہارے فائدے کے لئے ہے جیسا کہ فرماتا ہے مَنُ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ kh5-030425