خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 169
خطبات مسرور جلد چهارم 169 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد سے بعض لوگوں کے اس بہانے کی بھی وضاحت ہوگئی جو یہ کہتے ہیں کہ تمام چندوں کی ادائیگی ہماری طاقت سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقره: 287) کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی وسعت، اس کی صلاحیت، اس کی گنجائش سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔یہ تو ٹھیک ہے کہ اللہ تعالی تکلیف نہیں دیتا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نمونے قائم فرمائے اور جن پر چلتے ہوئے صحابہ نے قربانیاں دیں وہ قربانیاں اپنے اوپر تنگی وارد کر کے ہی دی گئی تھیں۔ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنے اوپر سنگی وارد کی اور قربانیاں دیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استعداد میں زیادہ تھیں انہوں نے اس کے مطابق قربانی دی، دوسرے ان کو اللہ تعالیٰ کے اپنے ساتھ اس سلوک کا بھی علم تھا، ان کو پتہ تھا کہ میں آج اپنے گھر کا سارا سامان بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دوں گا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی دماغی صلاحیت دی ہے اور تجارت میں اتنا تجربہ ہے کہ اس سے زیادہ مال دوبارہ پیدا کر لوں گا اور تو کل بھی تھا، یقین بھی تھا اور یقیناً اس میں اعلیٰ ایمانی حالت کا دخل بھی تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا جائزہ لیتے ہوئے گھر کا نصف مال پیش کر دیا اور اسی طرح باقی صحابہ نے اپنی استعدادوں کے مطابق قربانیاں کیں اور کرتے چلے گئے۔تو ہمیں اس ارشاد کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ﴾ (البقرہ :287) کو اپنے بہانوں کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے ، خود اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے کہ مالی قربانی کی میرے اندر کس حد تک صلاحیت ہے، کتنی گنجائش ہے۔کم آمدنی والے لوگ عموماً زیادہ قربانی کر کے چندے دے رہے ہوتے ہیں یہ نسبت زیادہ آمدنی والے لوگوں کے۔زیادہ پیسے کو دیکھ کر بعض دفعہ بعض کا دل کھلنے کی بجائے تنگ ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ موصی بھی بہت کم آمدنی پر چندے دیتے ہیں اور ایسے راستے تلاش کر رہے ہوتے ہیں جن سے ان کی آمدنی کم سے کم ظاہر ہو۔حالانکہ چندہ تو خدا تعالیٰ کی خاطر دینا ہے۔ایسے لوگوں کا پھر پتہ تو چل جاتا ہے، پھر وصیت پر زد بھی آتی ہے۔پھر معذرتیں کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں۔تو چاہے موصی ہو یا غیر موصی جب بھی مالی کشائش پیدا ہو اس مالی کشائش کو انہیں قربانی میں بڑھانا چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری استعدادوں کو ، کشائش کو اس لئے بڑھایا ہے کہ آزمائے جائیں۔یہ دیکھا جائے کہ بیعت کے دعوئی میں کس حد تک سچے ہیں۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرہ : 287) کے ارشاد کے بعد اس ارشاد کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ ﴿ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ﴾ (البقرہ: 287) یعنی نیک کام کا ثواب بھی ملے گا اور اگر ٹال مٹول کر رہے ہو گے kh5-030425