خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 168

خطبات مسرور جلد چهارم 168 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006ء جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَنْفُقُوْا خَيْرًا لَّا نَفُسِكُمْ (التغابن : 17) کہ اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہوگا۔قرآن کریم میں مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بارے میں بے شمار ارشادات ہیں اور یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو پورا اجر دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی اجر ہے اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہو گے۔اس لئے ہمیشہ اپنے مال کا بہترین ٹکڑا اس کی راہ میں خرچ کرو۔جماعت احمدیہ کا جو مالی سال ہے اس کو ختم ہونے میں دو تین ماہ رہ گئے ہیں اور جو انتظامیہ ہے، مال سے متعلقہ شعبوں کو ان دنوں میں وصولیوں کی طرف توجہ دلانے کی فکر ہوتی ہے۔تو اس لحاظ سے میں توجہ دلانی چاہتا ہوں تا کہ جن لوگوں کو ابھی تک اپنے لازمی چندہ جات ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوئی ان کو توجہ ہو جائے اور منتظمین کی پریشانی بھی دور ہو۔مجھے یقین ہے اور خدا تعالیٰ کے سلوک کو دیکھتے ہوئے جو وہ جماعت سے کرتا چلا آ رہا ہے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس یقین پر قائم ہوں کہ جو بھی جماعتی ضروریات ہوں گی اللہ تعالیٰ ہمیشہ انشاء اللہ پوری فرماتا رہے گا۔نئے کاموں ، نئے منصوبوں کو وہی دل میں ڈالتا ہے اور ڈالتا بھی اسی لئے ہے کہ اس کے نزدیک جماعت اس کام کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ذریعے سے مالی قربانیوں کے جہاد ہونے تھے اس لئے ایک لمبے عرصے کے بعد ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے وسعت بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔اس زمانے میں جبکہ ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد ہے جو مالی قربانیاں کرنا جانتی ہے اور ان نمونوں کو قائم کرنے والی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہوئے صحابہ نے کئے۔یہ مالی قربانی، قربانی تو یقیناً ہے جیسا کہ میں نے کہا لیکن اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں میں اس قربانی کی صلاحیت بھی پیدا کر دی ہے جس کے اعلیٰ ترین نمونے ہمارے سامنے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہر گز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ﴾ (البقرة 287) (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 156 ) kh5-030425