خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 10
خطبات مسرور جلد چهارم 10 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کر کے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تا کہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں، ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا وہاں مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مد اناج وغیرہ ملتا تو اس میں سے صدقہ کرتا۔تھوڑی سی بھی کوئی چیز ملتی تو صدقہ کرتا۔اور اب ان کا یہ حال ہے انہی لوگوں کا جوسب مزدوری کرتے تھے۔کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔(بخاری کتاب الاجارة۔باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به حدیث نمبر 2273) | پس دیکھیں کہ ابتدائی حالت کیا تھی اور آخری حالت کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان پر فضل فرمائے۔ان کی قربانیوں کو کس طرح نوازا۔چندوں کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہا روپیہ خرچ کریں۔اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔سو مردانہ ہمت سے امداد کے لئے بلا توقف قدم اٹھانا چاہئے۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 156) پس خدا کی مددد یکھنے کے لئے ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں۔پھر آپ نے فرمایا : ” تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا تعالیٰ سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو kh5-030425