خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 162

162 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم رنجش کی بنا پر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، یا تحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان لمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات یاستی دیکھی تو فوراً اطلاع کی جاتی۔اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔جماعت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کا یہ ایک مسلسل عمل ہے۔بعض لوگ اس خوف سے کہ ہم پر ذمہ داری نہ آ پڑے ذمہ داری سے بچنے کے لئے خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔تو اگر اپنا جائزہ لینے کی ، اپنا محاسبہ کرنے کی ہر عہد یدار کو ہر نمائندہ شوریٰ کو عادت ہوگی اور یہ خیال ہوگا کہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنا گیا ہے اور پھر تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے مشورہ دینے کے بعد میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ میں یہ جائزہ لیتا ہوں کہ کس حد تک ان فیصلوں پر عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے کاموں میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہوگی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک مسلسل عمل ہے کام کرنے کا اور جائزے لیتے رہنے کا تبھی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔اور جماعتوں میں ایک واضح بیداری پیدا ہوگی اور نظر آ رہی ہوگی۔، اب اس دفعہ بھی پاکستان کی شوریٰ میں پیش کرنے کے لئے جماعتوں نے بعض تجویزیں رکھیں اور یہ دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے لیکن ان تجویزوں کو انجمن یا ملکی مجلس عاملہ شوری میں پیش کرنے کی سفارش نہیں کرتی کہ یہ تجویز گزشتہ سال یا دو سال پہلے شوری میں پیش ہو چکی ہے اور حسب قواعد تجویز تین سال سے پہلے شوری میں پیش نہیں ہو سکتی۔تو اس تجویز کے آنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کم از کم اس جماعت میں جس کی طرف سے یہ تجویز آئی ہے وہاں اس فیصلے پر جو ایک سال یا دو سال پہلے ہوا تھا ، شوری نے کیا تھا اور پھر منظوری لی تھی، اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔اور یہ بات واضح طور پر اس جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوری کی سستی اور نا اہلی ثابت کرتی ہے۔اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ خود ہی کسی کام کو کرنے کے بارے میں ایک رائے قائم کر کے اور پھر اس پر آخری فیصلہ خلیفہ وقت سے لینے کے بعد اس فیصلے کو جماعت نے کوئی اہمیت نہیں دی۔یہ ستی صرف اس لئے ہے کہ جس طرح ان معاملات کا پیچھا کرنا چاہئے ، مرکز نے بھی پیچھا نہیں کیا، نظارتوں نے بھی پیچھا نہیں کیا یا ملکی سطح پرملکی عاملہ پیچھا نہیں کرتی۔ترجیحات اور اور ر ہیں۔اس طرح مرکزی عہدیداران بھی جب یہ توجہ نہیں دے رہے۔ہوتے تو وہ بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔اس کے لئے مرکزی عہدیداران کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور مقامی جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوری کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور جائزہ لینا ہوگا اور وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کہ کیوں سال دو سال پہلے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ملکی انتظامیہ کی طرف سے یا انجمنوں کی طرف سے اس بنا پر کہ تھوڑا عرصہ پہلے کوئی تجویز پیش ہو kh5-030425