خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 159
159 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم بھی ہوں وہ مرکزی شوری کے لئے اپنے میں سے نمائندے چنتے ہیں جو مجلس شوری میں بیٹھ کر تقویٰ کی را ہوں پر قدم مارتے ہوئے مشورے دیتے ہیں یا دینے چاہئیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب شَاوِرْهُمْ الامر کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری اُمت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے۔پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشد و ہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔(شعب الايمان للبهيقى جلد 6صفحه 77-76روایت نمبر7542 ایڈیشن اول 1990ء) پس یہ مشورے امت کے لئے رحمت کا باعث ہیں اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے رشد و ہدایت پر چلانیوالے ہیں۔لیکن اس پہلی حدیث کے مطابق اگر مشورہ دینے والے اپنی عقل اور سمجھ کے ساتھ ساتھ اپنے کسی خاص کام میں مہارت کے ساتھ ساتھ عبادت گزار بھی ہوں اور نیکیوں پر قدم مارنیوالے بھی ہوں، تقویٰ پر قائم ہوں تبھی ایسے مشورے ملیں گے جو قوم کے مفاد میں ہونگے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کر نیوالے ہوں گے۔اور ان مشوروں میں برکت بھی پڑے گی اور بہتر نتائج بھی برآمد ہونگے۔پس یہاں ممبران جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ صرف اپنی دوستی اور رشتہ داری یا تعلق داری کی وجہ سے ہی شوری کے نمائندے منتخب نہیں کرنے بلکہ ایسے لوگ جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں، کیونکہ تم جس ادارے کے لئے یہ نمائندگان منتخب کر کے بھیجوا رہے ہو یہ بڑا مقدس ادارہ ہے اور نظام خلافت کے بعد نظام شوریٰ کا ایک تقدس ہے۔اس لئے بظاہر سمجھدار اور نیک لوگ جو عبادت کرنے والے اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں اُن کو منتخب کرنا چاہئے اور جب ایسے لوگ چنو گے تبھی تم رحمت کے وارث بنو گے ورنہ دنیا دار لوگ تو پھر ویسے ہی اخلاق دکھا ئیں گے جیسے ایک دنیا دار دنیاوی اسمبلیوں میں، پارلیمنٹوں میں دکھاتے ہیں۔پس افراد جماعت کی طرف سے اس امانت کا حق جو اُن کے سپرد کی گئی ہے اس وقت ادا ہو گا جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے شوری کے نمائندے منتخب کریں گے۔پاکستان میں تو اب جماعتوں کی طرف سے اس ادا ئیگی امانت کا وقت گزر چکا ہے۔کیونکہ نمائندے منتخب کر لئے ہیں آج شوری ہو رہی ہے۔لیکن جن ملکوں میں ابھی نمائندے چنے جانے ہیں ان کو یہ بات ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ تُؤدُّوا الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا ﴾ ( النساء: 59) که امانتوں کو ان کے مستحقوں کے سپر د کرو کیونکہ وہ نمائندے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنے جاتے ہیں۔آپ اپنی جماعتوں سے نمائندے چن کے اس لئے بھیج رہے ہیں کہ خلیفہ وقت کو مشورہ دیں۔اس لحاظ سے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔جو لوگ کھلی آنکھ سے ظاہر انا اہل نظر آ رہے ہوں ان کو اگر آپ kh5-030425