خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد چهارم 149 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء جواز مہیا کر رہا ہے۔گو وہ کہتے یہی ہیں کہ ہم اپنے پروگرام کے مطابق چلے جائیں گے اور انخلاء شروع ہو چکا ہے اور یہ مکمل ہو جائے گا۔لیکن یہ حرکتیں ، جواز بہر حال مہیا کر رہی ہیں۔ٹھیک ہے اس وجہ سے ان بیرونی ملکوں کی فوجوں میں کچھ خوف کی صورت بھی پیدا ہوئی ہے۔لیکن جن حکومتوں کو اپنی انا ہر چیز سے زیادہ عزیز ہو ان کو کسی جانی نقصان کی پرواہ نہیں ہوتی۔تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے، ان مغربی ملکوں کے جو عراق کی جنگ میں ملوث ہیں مالی اور اقتصادی فوائد ہیں اس لئے بہر حال یہ کوشش کریں گے کہ اس ملک میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کی جائے تا کہ اس راکھ کے ڈھیر ملک کی بحالی کے کام میں اس ملک کے تیل کی دولت سے یہ خزانے بھر سکیں۔گزشتہ دنوں (2-3 دن ہوئے ) اخبار میں ایک خبر تھی کہ ان مغربی ملکوں نے بحالی کے کام میں اب تک کئی بلین ڈالرز کمائے ہیں۔انہی کا پیسہ انہی پر خرچ کر کے ان پر احسان بھی جتارہے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارے لئے بحالی کے منصوبے کتنی جلدی بنا کر دیئے ہیں۔پانی مہیا کر دیا بجلی مہیا کر دی ، سڑکیں بنا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔بنا تو رہے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنے خزانے بھی بھر رہے ہیں۔تو یہ نہایت ہی پریشان کن حالت ہے۔خلیج کے بحران کے خطبات میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مسلمان حمد ممالک ہوش میں آئیں اور ان طاقتوں سے کہیں کہ ہم ان ممالک کو جو آپس میں لڑنے والے ہیں خود ہی سنبھال لیں گے تم دخل نہ دو۔لیکن یہ مسلمان ممالک بھی ان کے مددگار بنے رہے۔اور ابھی تک بنے ہوئے ہیں۔اب بھی اگر یہ مسلمان ملک مل کر کہیں کہ ہم مل کر امن قائم کروادیں گے اگر مغربی طاقتیں نکل جائیں، تو شاید عراق میں کوئی امن کی صورت پیدا ہو جائے اور باقی ان ملکوں میں بھی امن کی صورت پیدا ہو جائے۔افغانستان کا بھی یہی حال ہے۔ایران بھی ان ملکوں کے خطرناک عزائم کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔لیکن اگر یہ لوگ یہاں سے نکل جائیں اور یہ بھی آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں اور اس حدیث پر عمل کرنے والے ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنے والے ہوں کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (الحجرات: 11) که مومن تو بھائی بھائی ہوتے ہیں پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔تو شاید بچ جائے۔ایک تو عراق کے اندر جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے صلح کی کوشش ہو تو شاید kh5-030425