خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد چهارم 143 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء آزادی ہوگی کہ وہ اپنے طور پر عبادت کرے۔اگر کوئی اپنے علماء کے پاس جا کر مسائل پوچھنا چاہے تو جائے۔گرجوں وغیرہ کی مرمت کیلئے آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمانوں سے مالی امداد لیں اور اخلاقی امداد لیں تو مسلمانوں کو مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہتر چیز ہے اور یہ نہ قرض ہوگا اور نہ احسان ہوگا بلکہ اس معاہدے کو بہتر کرنے کی ایک صورت ہوگی کہ اس طرح کے سوشل تعلقات اور ایک دوسرے کی مدد کے کام کئے جائیں۔ملخص سیاسی وثیقه جات از عهد نبوی تا خلافت را شدہ از ڈاکٹر محمدحمید اللہ صفحہ 108 تا 112) تو یہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار مذہبی آزادی اور رواداری کے قیام کیلئے۔اس کے باوجود پ پر ظلم کرنے اور تلوار کے زور پر اسلام پھیلانے کا الزام لگانا انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پس جبکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب نہایت درجہ بد چلن ہو چکے تھے اور بدی کر کے سمجھتے تھے کہ ہم نے نیکی کا کام کیا ہے اور جرائم سے باز نہیں آتے تھے اور امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے تو خدا تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عنان حکومت دے کر ان کے ہاتھ سے غریبوں کو بچانا چاہا۔اور چونکہ عرب کا ملک مطلق العنان تھا اور وہ لوگ کسی بادشاہ کی حکومت کے ماتحت نہیں تھے اس لئے ہر ایک فرقہ نہایت بے قیدی اور دلیری سے زندگی بسر کرتا تھا۔کوئی قانون نہیں تھا کیونکہ کسی کے ماتحت نہیں تھے اور چونکہ ان کیلئے کوئی سزا کا قانون نہ تھا۔اس لئے وہ لوگ روز بروز جرائم میں بڑھتے جاتے تھے۔پس خدا نے اس ملک پر رحم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ملک کیلئے نہ صرف رسول کر کے بھیجا بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی بنا دیا اور قرآن شریف کو ایک ایسے قانون کی طرح مکمل کیا جس میں دیوانی ، فوجداری ، مالی سب ہدا یتیں ہیں۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک بادشاہ ہونے کے تمام فرقوں کے حاکم تھے اور ہر ایک مذہب کے لوگ اپنے مقدمات آپ سے فیصلہ کراتے تھے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا آنجناب کی عدالت میں مقدمہ آیا تو آنجناب نے تحقیقات کے بعد یہودی کو سچا کیا اور مسلمان پر اس کے دعوئی کی ڈگری کی۔اس کا ذکر میں کر چکا ہوں۔پس بعض نادان مخالف جو غور سے قرآن شریف نہیں پڑھتے وہ ہر ایک مقام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے نیچے لے آتے ہیں حالانکہ ایسی سزا ئیں خلافت یعنی بادشاہت کی حیثیت سے دی جاتی تھیں“۔یعنی یہ حکومت کا کام ہے۔پھر فرماتے ہیں: ”بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد نبی جدا ہوتے تھے اور بادشاہ جدا ہوتے تھے جو امور سیاست کے ذریعے سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ kh5-030425