خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد چهارم 144 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو عطا کئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ الگ کر کے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے ﴿وَقُلْ لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِّيِّينَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغ ( الجزو 3 سورۃ آل عمران ) اور اے پیغمبر ! اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پا گئے۔اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچادو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کیلئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے۔اور یہ 66 جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھا ، نہ بحیثیت رسالت۔یعنی کہ جب آپ حکومت کے مقتدر اعلیٰ تھے تب جنگ کرتے تھے اس لئے نہیں کرتے تھے کہ نبی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔﴿وَقَاتِلُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ( الجزو2 سورة البقرة ) - ( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 242-243) پس جس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ شریعت اتری ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پر اترے ہوئے احکامات کے معاملے میں زیادتی کرتا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فتح مکہ کے موقع پر بغیر اس شرط کے کہ اگر اسلام میں داخل ہوئے تو امان ملے گی عام معافی کا اعلان کر دیا تھا۔اس کی ایک مثال ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔اس کی مختلف شکلیں تھیں لیکن اس میں یہ نہیں تھا کہ ضرور اسلام قبول کرو گے تو معافی ملے گی۔مختلف جگہوں میں جانے اور داخل ہونے اور کسی کے جھنڈے کے نیچے آنے اور خانہ کعبہ میں جانے اور کسی گھر میں جانے کی وجہ سے معافی کا اعلان تھا۔اور یہ ایک ایسی اعلیٰ مثال تھی جو ہمیں کہیں اور دیکھنے میں نہیں آئی۔مکمل طور پر یہ اعلان فرما دیا کہ لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہ جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ہزاروں درود اور سلام ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے اپنے یہ اعلیٰ نمونے قائم فرمائے اور ہمیں بھی اس کی تعلیم عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔kh5-030425