خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 131
خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء 131 10 خطبات مسرور جلد چهارم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر بیہودہ جملوں کے جواب میں اسلام کی خوبصورت اور پاکیزہ تعلیم کا تذکرہ اسلام حسن اخلاق سے اور آزادی ضمیر و مذہب کے اظہار کی اجازت سے پھیلا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجسم رحم تھے اور آپ کے سینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کر سکتا جو آپ نے کئے۔فرمودہ مورخہ 10 / مارچ 2006ء (10 /امان 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر غیر مسلموں کی طرف سے جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ ایسا دین لے کر آئے جس میں سوائے بختی اور قتل وغارت گری کے کچھ اور ہے ہی نہیں اور اسلام میں مذہبی رواداری، برداشت اور آزادی کا تصور ہی نہیں ہے اور اسی تعلیم کے اثرات آج تک مسلمانوں کی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں۔اس بارہ میں کئی دفعہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بدقسمتی سے مسلمانوں میں سے ہی بعض طبقے اور گروہ یہ تصور پیدا کرنے اور قائم کرنے میں ممد و معاون ہوتے ہیں اور بد قسمتی سے ان کے اسی نظریے اور عمل نے غیر اسلامی دنیا میں اور خاص طور پر مغرب میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لغو اور بیہودہ اور انتہائی نازیبا اور غلیظ خیالات کے اظہار کا موقع پیدا کیا ہے۔جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض طبقوں اور گروہوں کے عمل مکمل طور پر اسلامی تعلیم اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہیں۔اسلام کی تعلیم تو ایک ایسی خوبصورت تعلیم ہے جس کی خوبصورتی اور حسن kh5-030425