خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد چهارم 130 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء کر کے ان کے حوالے سے شائع کی ہے یہ تو مزید اس آگ کو تیل دینے والی بات ہے، ہوا دینے والی بات ہے۔ہم نے جو ان سے رابطے کئے ہیں ڈنمارک کی اعلیٰ سیکیورٹی ایجنسی کے افسر نے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے، تردید کی ہے کہ بالکل کبھی اس طرح نہیں ہوا اور نہ کوئی ہمارے پاس ایسی خبر ہے۔بہر حال وہ کہتے ہیں ہم مزید تحقیق کریں گے اس سے مزید باتیں کھل جائیں گی۔پہلے انہوں نے اخبار میں یہ خبر لکھی کہ اس کی ویڈیوٹیپ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے جو اپنے رابطے کئے تو اب یہ کہنے لگے ہیں کہ نہیں ویڈیو ٹیپ نہیں آڈیو ٹیپ ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔یہ اپنے بیان بدلتے رہیں گے۔اور یہی پاکستانی صحافت کا یا اس صحافت کا جس پر پاکستانی اثر ہے، حال ہے۔لیکن بہر حال میں یہ بتا دوں کہ بات اب یہاں اس طرح ختم نہیں ہو گی۔ہم پر یہ جو اتنا گھناؤنا الزام لگایا ہے اور ان حالات میں احمدیوں کے خلاف جو سازش کی گئی ہے ہم اس کو جہاں تک یہاں کا قانون ہمیں اجازت دیتا ہے انشاء اللہ انجام تک لے کر جائیں گے تاکہ مسلمانوں کو ، کم از کم ان مسلمانوں کو جو شریف فطرت لوگ ہیں، ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کے اخلاقی معیار کا پتہ لگ سکے۔ہم پر تو ہمیشہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا گھناؤنے الزام لگائے جاتے رہے ہیں لیکن ہم ہمیشہ صبر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد، اس تعلیم کو سامنے رکھتے رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ: میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی کہ ہم صراط مستقیم پر چلیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور سچی اتباع کریں۔قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستور العمل بناویں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں۔نہ صرف قال سے۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقیناً یا درکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہم ہلاک نہیں ہو سکتے۔اس لئے کہ خدا ہمارے ساتھ ہوگا“۔انشاء اللہ (الحکم 24 ستمبر 1904ء صفحہ نمبر 4) اللہ ہمیں ہمیشہ اس نصیحت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دیتار ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے اور ان بد فطرتوں کو اب عبرت کا نشان بنائے۔نوٹ:۔اس اخبار نے بالآخر معذرت کی۔مرتب kh5-030425