خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد چهارم 129 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء ہے کہ يضع الحزب یعنی مسیح موعود لڑائی نہیں کرے گا۔تو پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد اصح الکتب ہے، اور دوسری طرف صحیح بخاری کے مقابل پر ایسی حدیثوں پر عقیدہ کر بیٹھتے ہیں جو صریح بخاری کی حدیث کی منافی پڑی ہے“۔پس یہ جماعت احمدیہ کا نظریہ ہے اور قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔اور بانگ دہل کھلے طور پر ہم یہ اعلان کرتے ہیں، کہتے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اب یہ لوگ جو جہاد جہاد کرتے پھر رہے ہیں جس کی آڑ میں سوائے دہشت گردی کے کچھ نہیں ہوتا یہ جہاد نہیں ہے اور سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ابھی کل ہی کراچی میں جو خود کش حملہ ہوا ہے یہی لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔پھر ایسے حملے میں اپنے ملک کی معصوم جانیں بھی یہ لوگ لے لیتے ہیں۔یہ غلط حرکتیں کر کے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے انکاری تو یہ لوگ خود ہورہے ہیں۔احمدی تو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دنیا میں پہنچانے کا جہاد کر رہے ہیں۔کون ہے ان لوگوں میں سے جو اسلام کے پیغام کو اس طرح دنیا کے کونے کونے میں پہنچا رہا ہو۔ہاں تمہاری اس دہشت گردی اور اسلام کو بدنام کرنے والی جو جہادی کوششیں ہیں ان میں احمدی نہ کبھی پہلے شامل ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔بہر حال یہ جماعت احمدیہ کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں ہیں، ہوتی رہی ہیں۔تو اس اخبار کو بھی میں کہتا ہوں ، ان کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ وہ ملک نہیں ہے جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو، پاکستان کی طرح کہ اگر ملاں کی مرضی ہوگی یا ان کی مرضی ہو گی قانون پر عملدرآمد ہو جائے گا اور انصاف نہیں ہوگا۔بہر حال کچھ نہ کچھ حد تک ان لوگوں میں انصاف ہے۔ہم سارے کوائف اکٹھے کر رہے ہیں، رپورٹس منگوا رہے ہیں۔یہ خبر دے کر اس افسر کے حوالے سے کہ ڈنمارک کے افسر نے کہا ہے کہ احمدیوں کی یقین دہانی پر کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم منسوخ ہو گئی ہے ہم نے یہ کارٹون شائع کئے تھے گویا ڈنمارک کی حکومت پر بھی اس سے الزام ثابت ہو رہا ہے کہ وہاں کی حکومت بھی اس کام میں ملوث ہے۔جبکہ وہاں کے وزیر اعظم شور مچارہے ہیں، کئی دفعہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ اخبار کا کام ہے ہم اس کو نا پسند کرتے ہیں لیکن آزادی صحافت کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے۔آزادی صحافت کیا چیز ہے، کیا نہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے۔لیکن بہر حال وہ اس چیز سے انکاری ہیں اور یہ اخبار کہہ رہا ہے کہ نہیں حکومت اس میں شامل ہے۔تو اس خبر کے خلاف تو ڈنمارک کی حکومت بھی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔آج کل جبکہ مسلمان دنیا میں ڈنمارک کے خلاف آگ بھڑ کی ہوئی ہے اس اخبار نے ایک من گھڑت خبر شائع kh5-030425