خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد چهارم 128 اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنانہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے“۔خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) تو یہ ہے ہماری تعلیم۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دی ہوئی تعلیم ہے اور یہ ہے ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی بھڑکائی ہوئی آگ اور اس کا صحیح فہم اور ادراک جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا۔اس کے بعد بھی یہ کہنا کہ نعوذ باللہ خاکے بنانے کے سلسلے میں اخبار اور حکومت ڈنمارک کو احمدیوں نے Encourage کیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے خاکے شائع کئے۔تو ان لوگوں پر سوائے اللہ تعالیٰ کی لعنت کے اور کچھ نہیں ڈالا جاسکتا۔اب دوسری بات یہ ہے کہ جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔اُس نے پہلی بات یہ کھی ہے لیکن اہم وہ بات تھی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کونعوذ باللہ ہی نہیں مانتے یا ان کی تعلیم اب منسوخ ہو گئی ہے۔دوسری بات اس نے جہاد کی منسوخی کی لکھی ہے اس بارے میں مسلمانوں کے اپنے لیڈ ر گزشتہ دنوں میں جب اُن پر پڑی ہے اور جن طاقتوں کے یہ طفیلی ہیں اور جن سے لے کر کھاتے ہیں انہوں نے جب ان کو دبایا تو انہیں کے کہنے پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ جو آج کل جہاد کی تعریف کی جاتی ہے اور یہ کہ بعض مسلمان تنظیمیں آئے دن حرکتیں کرتی رہتی ہیں یہ جہاد نہیں ہے اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔اخباروں میں ان لوگوں کے بیان چھپ چکے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو پہلے دن سے ہی یہ موقف ہے اور یہ نظریہ ہے اور یہ تعلیم ہے کہ فی زمانہ ان حالات میں جہاد بند ہے اور یہ مین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اسلئے تھیں کہ کفار کے حملے سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اٹھا تا ہے۔اور مسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے اور مساجد میں بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے۔یعنی اذان دینے سے کون منع کرتا ہے۔صرف پاکستان میں احمدیوں کو ہی منع کیا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم خاموش ہیں ، ہم نے تو کوئی شور نہیں مچایا۔بغیر اذان کے نماز پڑھ لیتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم میں مسیح موعود کی شان میں صاف حدیث موجود kh5-030425