خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 127

127 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔کہ تمام جو انسان کے حصے ہیں عقل ہے، علم ہے اور دوسرے حواس ہیں ان کی جو اعلیٰ طاقت ہے، اعلیٰ معیار ہے وہ انسان کامل کو ملا۔اور پھر انسان کامل بر طبق آیت ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْامَنتِ إِلَى أَهْلِهَا ﴾۔(النساء : 59) ، یعنی اس انسان کامل نے اس آیت کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کر و۔اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے“۔اور فرماتے ہیں کہ : " یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ، ہمارے مولی ، دو ہمارے ہادی نبی امی ، صادق و مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160-162) پس یہ لوگ جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق سمجھتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے بالا سمجھتے ہیں۔یہ بتائیں ،ان کے تو مقصد ہی صرف یہ ہیں کہ ذاتی مفاد حاصل کئے جائیں ان کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔یہ اپنے علماء میں سے کسی ایک کے منہ سے بھی اس شان کیا ، اس شان کے لاکھویں حصے کے برابر بھی کوئی الفاظ ادا کئے ہوئے دکھا سکیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں۔یہ اس عاشق صادق کے الفاظ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے بارے میں جسے تم لوگ جھوٹا کہتے ہو۔اس شخص کی تو ہر حرکت و سکون اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تھا۔یہ گہرائی یہ فہم، یہ ادراک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا کبھی کہیں اپنے لٹریچر میں تو دکھاؤ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور جماعت کی ہمیشہ یہی تعلیم ہے اور اس پر چلتی ہے کہ ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے برداشت کر لیتے ہیں۔آپ فرمایا کہ : ” ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔مگر جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم مشورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں kh5-030425