خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 126
126 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے۔جو الفاظ میری کتاب میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں۔بلکہ منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات الہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے۔یعنی اس سے بولتا ہے۔” اور غیب کی خبر میں اس کو دیتا ہے اس پر نبی کا لفظ ,, بولا جاتا ہے۔جس سے بھی زیادہ تر اللہ تعالیٰ بولے گا ، کلام کرے گا اس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے۔اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے۔یہ معنی نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے۔یہ الزام ہم پر لگا رہے ہیں۔بلکہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ ا۔’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں“۔(الحکم 10 جنوری 1904 ء صفحہ 2) پس جب دعوی کرنے والا دوٹوک الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ میں سب کچھ اس سے حاصل کر رہا ہوں اور اس کے بغیر کچھ بھی مل نہیں سکتا۔اور اس کے ماننے والے بھی اس یقین پر قائم ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام صادق ہے تو پھر افتراء اور جھوٹ پر مبنی باتیں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی جائے۔اور ایسے لوگ ہمیشہ سے کرتے آرہے ہیں۔فتنہ پیدا کرنے کے علاوہ یہ شیطانی قوتوں کو ( شیطان تو ہر وقت ساتھ لگا ہوا ہے ) حسد کی آگ ان کو جلاتی رہتی ہے۔یہ جماعت کی ترقی دیکھ نہیں سکتے ان کی آنکھوں میں جماعت کی ترقی کھنکتی ہے۔اور چاہے یہ جتنی مرضی گھٹیا حرکتیں کر لیس پہلے بھی یہ کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی شاید کرتے رہیں گے اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے، شیطان نے تو قائم رہنا ہے یہ ترقی ان کی گھٹیا حرکتوں سے رکنے والی نہیں ہے۔انشاء اللہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ : وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں بھی نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔نہ زمینی چیز میں تھا اور نہ آسمان میں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نو ر اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔ان ماننے والوں کو جتنا جتنا کسی کا ایمان تھا اس کے مطابق دیا گیا۔اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام kh5-030425