خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 125
خطبات مسرور جلد چهارم 125 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جن کی نظیر دنیا کے کسی حصے میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانے میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا۔اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور در حقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی آداب سکھلائے۔جو وحشی قوم تھی اور جانوروں کی طرح زندگی گزارنے والے تھے ان کو انسانی آداب سکھلائے۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا ، یعنی جانور کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور بچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔پس بلا شبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعے اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قو تیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بارو بر نہ رہی۔اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانے کے تاخیر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت پر آپ پر ختم ہو گئے۔اور چونکہ آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی۔اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں۔اور آپ کی نبوت عامہ کا کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتداء سے تمام دنیا کے لئے ہے“۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206-207) یہ ہے جماعت احمدیہ کی تعلیم کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان آج تک قائم ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت ، نئی کتاب نہ آئے گی، نئے احکام نہ آئیں گئے۔اور یہ کہتے ہیں کہ نئی شریعت لے آئے اور مرزا غلام احمد کو بالا سمجھتے ہیں۔kh5-030425