خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد چهارم 122 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس گھناؤنی حرکت کرنے پر یہ ہمارے رد عمل تھے۔ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے لاکھوں کروڑوں حصے زیادہ ہے جو ہم پر اس قسم کے اتہام اور الزام لگاتے ہیں۔اور یہ سب کچھ ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے ہے جس کی تصویر کشی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کی ہے۔جس کو خوبصورت کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھایا ہے۔کوئی بھی احمدی کبھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں یہ حال تھا کہ حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ کر آپ کی آنکھیں آنسو بہایا کرتی تھیں۔وہ شعر یہ ہے کہ: كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيُّ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ تُو تو میری آنکھ کی پتلی تھا جو تیرے وفات پا جانے کے بعد اندھی ہوگئی۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے، مجھے تو صرف تیری موت کا خوف تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ کاش یہ شعر میں نے کہا ہوتا۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه 23 روایت نمبر (33) تو ایسے شخص کے متعلق کہنا کہ نعوذ باللہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتا ہے یا اس کے ماننے والے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مقام دیتے ہیں۔بہت گھناؤنا الزام ہے۔ہمیں تو قدم قدم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہونے کے نظارے آپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 456) تو جو اپنا سب کچھ اس نور پر فدا کر رہا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اب نہیں رہا اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مقام زیادہ اونچا ہو گیا ہے اور احمدیوں کے نزدیک حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام آخری نبی ہیں اور پھر یہ کہ ہم نے ان kh5-030425