خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد چهارم 123 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء کو یہ کہ دیا کہ ٹھیک ہے یہ ہمارا عقیدہ ہے آپ آخری نبی ہیں اب ہم اخبار کو کھلی چھٹی دیتے ہیں کہ نعوذ باللہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بناؤ۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اور لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔انتہائی بچگانہ بات ہے کہ ہمارے کہنے پر ، صرف اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ ہم اجازت دیں اور وہ کارٹون شائع کر دیں جن کی ڈنمارک میں تعداد ہی چند سو ہے۔خبر لگاتے ہوئے یہ اُردو اخبار کچھ آگے پیچھے بھی غور کر لیا کرے۔ڈنمارک کی حکومت بیچاری تو شاید اتنی عقل سے عاری نہ ہولیکن یہ خبر لکھنے والے اور شائع کرنے والے بہر حال عقل سے عاری لگتے ہیں۔اور سوائے ان کے دلوں میں فتنے کے کچھ نظر نہیں آتا۔سوائے مسلمانوں کو انگیخت کرنے کے، بھڑ کانے کے کوئی اس خبر کا مقصد نظر نہیں آتا کہ اس نام پر مسلمان جوش میں آجاتے ہیں۔اس لئے جن مسلمان ملکوں میں، بنگلہ دیش میں ، انڈونیشیا میں یا پاکستان میں احمدیوں کے خلاف فضا ہے وہاں اور فساد پیدا کیا جائے۔اور کوئی بعید نہیں ہے کہ بعض مفاد پرست عناصر نے اس بہانے ان ملکوں میں یہ تحریک شروع کی ہو کہ حکومتوں کے خلاف تحریک چلائی جائے۔کیونکہ ہم نے ابھی تک عموماً یہی دیکھا ہے کہ احمدیوں کے خلاف چلی ہوئی تحریک آخر میں حکومتوں کے خلاف اُلٹ جاتی ہے۔اس لئے ان ملکوں کی حکومتوں کو بھی عقل کرنی چاہئے اور مفاد پرست ملاں یا ان عناصر کی چال میں نہیں آنا چاہئے۔جہاں تک ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا تعلق ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو شعر پڑھے تھے اس سے ہم نے دیکھ لیا، کچھ اندازہ ہو گیا اور ہر احمدی کے دل میں جو مقام ہے وہ ہر احمدی جانتا ہے۔گزشتہ خطبات میں میں اس کا ذکر بھی کر چکا ہوں۔اس تعلق میں خطبات دے چکا ہوں۔تکلیف کا اظہار ہم کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔تمام دنیا میں ہماری طرف سے احتجاجی بیان بھی شائع ہوئے ہیں، پریس ریلیز بھی شائع ہوئی ہیں۔اور یہ سب بیان ہم نے کوئی کسی کو دکھانے کے لئے یا کسی کی خاطر یا مسلمانوں کے خوف یا ڈر کی وجہ سے نہیں دیئے۔بلکہ یہ ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق تو ڑ کر ہماری زندگی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند حوالے میں پڑھوں گا۔اس سے بات مزید کھولتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ kh5-030425