خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد چهارم 118 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء کیونکہ یہ اخبار اپنی بکری بڑھانے کے لئے ایسی خبریں شائع کرنے میں بڑی جلدی کرتے ہیں۔سرکولیشن بڑھانے کے لئے اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرنے اور جھوٹ کے پلندے شائع کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ان کا جو پاکستان کا ایڈیشن ہے اس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہے ، سب کے علم میں ہے کہ آئے دن ہمارے بارہ میں ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں ، جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں میں ڈنمارک کے اخبار میں جولغو اور بیہودہ خاکے بنائے گئے تھے اور پھر دوسری دنیا میں بھی بنائے تھے، ان کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک انتہائی غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی ہوئی ہے۔ہڑتالیں ہو رہی ہیں، جلوس نکالے جا رہے ہیں۔بہر حال جو بھی غصے کا اظہار ہے، جب اس کو کوئی سنبھالنے والا نہ ہو، اس بہاؤ کو کوئی روکنے والا نہ ہو، اس کو صحیح سمت دینے والا نہ ہو تو پھر اسی طرح ہی رد عمل ظاہر ہوا کرتے ہیں۔کیونکہ مسلمان جیسا بھی ہو، نمازیں پڑھنے والا ہے یا نہیں، اعمال بجالانے والا ہے یا نہیں لیکن ناموس رسالت کا سوال آتا ہے تو بڑی غیرت رکھنے والا ہے، مر مٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ان حالات میں اس خبر کو شائع کرنا اور پھر کل جمعرات کے دن شائع کرنا جبکہ آج جمعہ کے روز اکثر جگہوں پر پھر جلوس نکالنے اور ہڑتالیں کرنے اور اس طرح کے کے رد عمل کا پروگرام ہے تو یہ چیز خالصتاً اس لئے کی گئی تھی کہ احمدیوں کے خلاف فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ انتہائی ظالمانہ اور فتنہ پردازی کی کوشش ہے تا کہ اس خبر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم علم مسلمانوں کو بھڑکا کر احمد یوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔بہر حال یہ ان کی کوششیں ہیں کہ کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے جب احمد یوں کے خلاف لاعلم، کم علم مسلمانوں کو بھڑ کا یا نہ جائے۔آپ میں سے کئی لوگوں نے یہ خبر پڑھی ہوگی لیکن چونکہ سب پڑھتے نہیں ہیں اس لئے میں یہ خبر پڑھ دیتا ہوں۔کوپن ہیگن کے حوالے سے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے۔انکے رپورٹر میں ڈاکٹر جاوید کنول صاحب، وہ کہتے ہیں کہ ڈنمارک کے خفیہ ادارے کے ایک ذمہ دار افسر نے اپنا نام اور عہدہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے جنگ اخبار کو بتایا کہ تمبر 2005ء میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا جس میں قادیانیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی ، اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ایک ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں۔یہاں تک تو ٹھیک ہے، ہم نے انہیں خاص طور پر تو نہیں بتایا مگر ہمارا دعویٰ یہی ہے کہ جماعت احمد یہ ہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کی علمبر دار ہے۔kh5-030425