خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 110

110 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم اور اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ بجائے تشدد کے دعاؤں اور درود پر زور دو اور اس کے ساتھ ہی اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرو۔اپنے نفسوں کو ٹو لو کہ کس حد تک ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں۔یہ وقتی جوش تو نہیں ہے جو بعض طبقوں کے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہمیں بھی اس آگ کی لپیٹ میں لے رہا ہے؟۔پس ہمیں چاہئے کہ جہاں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں وہاں اپنے ماحول میں اگر مسلمانوں کو سمجھا سکتے ہوں تو ضرور سمجھائیں کہ غلط طریقے اختیار نہ کرو بلکہ وہ راہ اختیار کرو جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پسند کیا ہے۔اور وہ راہ ہمیں بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے میری رضا حاصل کرنی ہے، جنت میں جاتا ہے تو مجھ پر درود بھیجو۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر درود نہیں بھیجتا اس کا کوئی دین ہی نہیں۔پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔کثرت سے اللہ کو یاد کرنا اور مجھ پر درود بھیجنا تنگی کے دور ہونے کا ذریعہ ہے۔اب یہ جو رزق کی تنگی ہے۔حالات کی تنگی ہے۔آجکل مسلمانوں پر بھی جو تنگیاں وارد ہورہی ہیں۔مغرب نے اپنے لئے اور اصول رکھے ہوئے ہیں اور ان مسلمان ممالک کے لئے اور اصول رکھے ہوئے ہیں ، اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا جائے اور ان برکات سے فیضیاب ہوا جائے جو درود پڑھنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وابستہ کر رکھی ہیں۔ایک روایت ہے۔( تھوڑا سا حصہ پہلے بھی بیان کیا ہے ) اس کی تفصیل ایک اور جگہ بھی آتی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قیامت کے روز اس دن کے ہر ایک ہولناک مقام میں تم میں سے سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہو گا جس نے دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہوگا۔(تفسیر در منثور جلد 5 تفسير سورة الاحزاب آیت 57 صفحه (411) (الشفاء للقاضي الباب الرابع في حكم الصلوة عليه والتسليم فصل في فضيلة الصلوة على النبي۔۔۔۔جلد 2 صفحه 50) دیکھیں اب کون نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ پائے۔اور ہر خطرناک جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر نکلتا چلا جائے۔یقیناً ہر کوئی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنا چاہتا ہے تو پھر یہ اس سے بچنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں رہنے کا طریق ہے جو kh5-030425