خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد چهارم 109 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 6۔5) اور انہیں پاک لوگوں میں داخل کیا تھا“۔اس طرح خالص ہو کر درود بھیجیں گے جس سے ایک جماعتی رنگ بھی پیدا ہو جائے تو وہ ایسا درود ہے جو پھر اپنے اثرات بھی دکھاتا ہے۔ایسے لوگ جو کہتے ہیں درود کا اثر نہیں ہوتا ان پر اس حدیث سے بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام سے بھی بات واضح ہو جانی چاہئے اور کبھی بھی درود بھیجنے سے تنگ نہیں آنا چاہئے بلکہ اپنے نفس کو ٹولنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو مجھ پر درود نہ بھیجے وہ بڑا بخیل ہے، کنجوس ہے۔(ترمذی کتاب الدعوت باب قول رسول الله رغم انف رجل حدیث نمبر 3546) | اور اس بخل کی وجہ سے جہاں وہ بخل کرنے کا گناہ اپنے اوپر سہیڑ رہا ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھی محروم ہو رہا ہوتا ہے۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک بار درود بھیجنے والے پر اللہ تعالیٰ دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل کرنا تو ایسا سودا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ بھی سب دعا ئیں چھوڑ کر صرف درود بھیجا کرتے تھے۔ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک کج خلقی اور بد اعتباری کی بات ہے کہ ایک شخص کے پاس میراذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔(كنز العمال جلد 1 كتاب الاذكار قسم الاقوال الباب السادس في الصلواة عليه وعلى اله 2153) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا گردنوں کو آزاد کرنے سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور آپ کی صحبت اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے یا جہاد کرنے سے بھی افضل ہے۔(تفسیر در منثور جلد 5 تفسير سورة الاحزاب آیت 57 صفحه 411) یہ جو آجکل کے نام نہاد جہاد ہورہے ہیں غیروں سے بھی جنگیں ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔اب ان علماء سے کوئی پوچھے کہ تم جو بے علم اور ان پڑھ مسلمانوں کے جذبات کو ابھار کر ( جو مذہبی جوش میں آ کر اپنی طرف سے غیرت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط حرکتیں کرتے ہیں ) ، ان کی جو تم غلط رہنمائی کرتے ہو تو یہ کون سا اسلام ہے؟ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ جب تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا کلمات سنو، باتیں سنو تو آپ کے محاسن بیان کرو۔آپ پر درود بھیجو۔یہ تمہارے جہاد سے زیادہ افضل ہے۔جان دینے سے زیادہ بہتر ہے کہ دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دو۔kh5-030425