خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد چهارم 104 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء ہیں بلکہ اسلامی ممالک کی آرگنائزیشن (او آئی سی) نے بھی کہا ہے کہ مغربی ممالک پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ معذرت بھی کریں اور ایسا قانون بھی پاس کریں کہ آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر انبیاء تک نہ پہنچیں، کیونکہ اگر اس سے باز نہ آئے تو پھر دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔ان ملکوں کا یا آرگنا ئزیشن کا یہ بڑا اچھا رد عمل ہے۔اللہ تعالیٰ اسلامی ممالک میں اتنی مضبوطی پیدا کر دے اور ان کو توفیق دے کہ یہ حقیقت میں دلی درد کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ایسے فیصلے کروانے کے قابل ہوسکیں۔گزشتہ دنوں ایران کے ایک اخبار نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرکت کا بدلہ لینے کے لئے اپنے اخبار میں مقابلے کروائے گا جس میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا تھا اس سلوک کے حوالے سے ، ان کے کارٹون بنانے کا مقابلہ ہو گا۔گو یہ اسلامی رد عمل نہیں ہے، یہ طریق اسلامی نہیں ہے لیکن مغربی ممالک جو آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں اور ہر قسم کی بیہودگی کو اخبار میں چھاپنے کو آزادی صحافت کا نام دیتے ہیں ان کو اس پر برانہیں منانا چاہئے ، جو منایا گیا۔یا تو برا نہ مناتے یا پھر یہ جواب دیتے کہ جس غلطی سے دنیا میں فساد پیدا ہو گیا ہے ہمیں چاہئے کہ اب کسی مذہب یا اس کے بانی اور نبی یا کسی قوم کے بارے میں ایسی سوچ کو ختم کر کے پیار اور محبت کی فضا پیدا کریں۔لیکن اس طرح کے جواب کی بجائے ڈنمارک کے اس اخبار کے ایڈیٹر نے جس میں یہ کارٹون شائع ہونے پر دنیا میں سارا فساد شروع ہوا ہے، اس نے ایران کے اس اعلان پر یہ کہا ہے کہ وہاں جو اخبار میں کارٹون بنانے کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا گیا ہے یعنی جنگ عظیم دوم میں یہودیوں سے متعلقہ جو بھی کارٹون بننے تھے وہ ایک قوم پر ظلم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کارٹون بنے تھے۔کسی نبی کی ہتک یا تو ہین کے بارے میں نہیں بننے تھے۔تو بہر حال ایڈیٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہم اس میں قطعاً حصہ نہیں لیں گے۔اور اپنے قارئین کی تسلی کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے قاری تسلی رکھیں کہ ہمارے اخلاقی معیار ابھی تک قائم ہیں۔ہم ایسے نہیں کہ حضرت عیسی کے یا ہالوکاسٹ کے کارٹون شائع کریں۔اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی بھی حالت میں ایرانی اخبار اور میڈیا کے اس بد ذوق قسم کے مقابلے میں حصہ لیں۔تو یہ ہیں ان کے معیار، جو اپنے لئے اور ہیں اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے اور ہیں۔بہر حال یہ اُن کے کام ہیں، کئے جائیں۔اب دیکھیں کہ معیاروں کا یہ حال۔پچھلے دنوں یہاں کے ایک مصنف نے 17 سال پہلے ایک واقعہ لکھا تھا بات لکھی تھی ، آسٹریا میں گیا اور وہاں جا کر اس پر مقدمہ ہو گیا تین سال کی قید ہوگئی۔تو بہر حال یہ تو ان کے طریقے ہیں۔اپنے لئے برداشت نہیں کرتے لیکن ہمیں بھی دیکھنا چاہئے کہ ہماری اپنی حالت کیا kh5-030425