خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 95

خطبات مسرور جلد چهارم 95 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء فرمایا ) دلائل قاطعہ کے ذریعہ سے، مضبوط دلائل کے ذریعہ سے ان کو رد کیا وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مرز ا غلام احمد صاحب قادیانی ہی ہیں جنہوں نے اس وقت عیسائیت کے حملے روکے اور مسلمانوں کو عیسائی ہونے سے بچایا۔آگے وہ اپنی اوٹ پٹانگ مختلف وضاحتیں کر رہے ہیں، مختلف وضاحتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھی کچھ بولے کہ میسج نہیں ہو سکتے۔بہر حال یہ تو آج تک مانا جاتا ہے کہ اگر عیسائیت کے مقابلے پر کوئی کھڑا ہوا اور اس کی تعلیم کو دلائل سے رڈ کیا تو وہ ایک ہی پہلوان تھا جس کا نام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔پس چاہے یہ لوگ آج تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے ایک دن ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ مسیحی دلائل ہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیئے اور جنہوں نے دجال کا خاتمہ کیا اور آپ ہی مسیح موعود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا غلط اور ظاہری مطلب لینے کی وجہ سے مسلمان ابھی تک مسیح کا انتظار کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اترے گا، اس کو مزید کھولتے ہوئے کہ ان کا یہ مطلب غلط ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حدیث ہی سے وضاحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والے مسیح جس کا اس امت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت میں سے ایک شخص ہوگا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور اَمَّكُمْ مِنكُم لکھا ہے جس کے یہ معنی ہیں وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسی کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اس حدیث میں حکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ اسی کے حق میں ہے۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ مِنكُم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے۔اور وہ وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منظم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائمقام صحابہ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صحابہ کا قائمقام ہے۔ان کی جگہ پر ہے۔اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائمقام صحابہ کیا گیا ہے۔یعنی یہ کہ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ (سورۃ الجمعہ 4)۔کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریم کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے۔اور اسی معنے کی رو سے صحابہ میں داخل ہے اور اس آیت کی تشریح میں حدیث ہے لوگان الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِس۔اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے ،، kh5-030425