خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 94
94 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم ہستی کا خاتمہ کر دے گا۔تو یہ دلائل ہیں جن سے کاٹنا ہے تاکہ ان کے جو جھوٹے دعوے اور وجود ہیں ان کو ختم کر سکے۔اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دین محمدی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے۔جو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آ کر دلیلوں سے اس کو ماریں گے۔غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر بخوبی کھولی گئی ہیں۔اب چاہے کوئی اس کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن آخر کچھ مدت اور انتظار کر کے اور اپنی بے بنیاد امیدوں سے یاس کلی کی حالت میں ہو کر ایک دن سب لوگ اس طرف رجوع کریں گے۔(ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 141-143 حاشیہ) پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیوں کو چیلنج کیا ہے۔عیسائیت جس تیزی سے پھیل رہی تھی یہ آپ ہی ہیں جنہوں نے اس کو روکا ہے۔ہندوستان میں اس زمانے میں ہزاروں لاکھوں مسلمان عیسائی ہورہے تھے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جنہوں نے اس حملے کو نہ صرف روکا بلکہ اسلام کی ساکھ دوبارہ قائم کی۔پھر افریقہ میں جماعت احمدیہ نے عیسائیت کی یلغار کو روکا۔اسلام کی خوبصورت تصویر دکھائی، ہزاروں لاکھوں عیسائیوں کو احمدی مسلمان بنایا۔تو یہ تھے مسیح کے کارنامے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک آپ کی دی ہوئی تعلیم اور دلائل کے ساتھ جماعت احمد یہ دلوں کو جیتے ہوئے منزلیں طے کر رہی ہے اور انشاء اللہ کرتی چلی جائے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ایک دن یہ لوگ مایوس ہو کر رجوع کریں گے۔تو یہ ہے وضاحت اس بات کی کہ کس طرح ان لوگوں کے دجل اور فریب کو ختم کرنا ہے۔یہ ہے خنزیر کو قتل کرنے اور صلیبوں کو توڑنے کا مطلب اور دجال سے مقابلے کا مطلب، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔آج بھی جیسا کہ میں نے کہا جماعت احمد یہ ہی ہے جو ہر جگہ عیسائیت کا مقابلہ کر رہی ہے۔گزشتہ دنوں ٹی وی پر ایک پروگرام آ رہا تھا شاید جیو یا ARY پر، یا اسی قسم کے کسی ٹی وی پر جو ایشیا سے آتے ہیں تو اس میں ایک علامہ ڈاکٹر اسرار صاحب یہ فرما رہے تھے کہ کیونکہ مسلمان علماء جاہل تھے اور دینی علم بالکل نہیں تھا۔نہ قرآن کا علم تھا، نہ بائیبل کا علم تھا اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ایک علمی آدمی تھے، بائیل کا علم بھی رکھتے تھے ، دوسرے مذاہب کا علم بھی رکھتے تھے۔اس وجہ سے انہوں نے اس وقت عیسائیوں کا مقابلہ کیا اور ان کا منہ بند کر دیا۔ان کے الفاظ کا مفہوم کچھ اس قسم کا تھا۔تو بہر حال یہ تو انہوں نے تسلیم کر لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی (جیسا کہ خود آپ نے kh5-030425