خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 78
78 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم میں نے مختلف ملکوں سے جو وہاں رد عمل ہوئے ، یعنی مسلمانوں کی طرف سے بھی اور ان یورپین دنیا کے حکومتی نمائندوں یا اخباری نمائندوں کی طرف سے بھی جو اظہار رائے کیا گیا ان کی رپورٹیں منگوائی ہیں۔اس میں خاصی تعدا دا ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اخبار کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہیں نہ کہیں سے کسی وقت ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس سے ان گندے ذہن والوں کے ذہنوں کی غلاظت اور خدا سے دُوری نظر آ جاتی ہے۔اسلام سے بغض اور تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن میں یہ کہوں گا کہ بدقسمتی سے مسلمانوں کے بعض لیڈروں کے غلط رد عمل سے ان لوگوں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔یہی چیزیں ہیں جن سے پھر یہ لوگ بعض سیاسی فائدے بھی اٹھاتے ہیں۔پھر عام زندگی میں مسلمان کہلانے والوں کے رویے ایسے ہوتے ہیں جن سے یہاں کی حکومتیں تنگ آجاتی ہیں۔مثلاً کام نہ کرنا، زیادہ تر یہ کہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں، سوشل ہیلپ (Social Help) لینے لگ گئے۔یا ایسے کام کرنا جن کی اجازت نہیں ہے یا ایسے کام کرنا جن سے ٹیکس چوری ہوتا ہو اور اس طرح کے اور بہت سے غلط کام ہیں۔تو یہ موقع مسلمان خود فراہم کرتے ہیں اور یہ ہوشیار قو میں پھر اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔بعض دفعہ ظلم بھی ان کی طرف سے ہو رہا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کے غلط رد عمل کی وجہ سے مظلوم بھی یہی لوگ بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ظالم بنا دیتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ شاید مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس توڑ پھوڑ کو اچھا نہیں بجھتی لیکن لیڈرشپ یا چند فسادی بد نام کرنے والے بدنامی کرتے ہیں۔اب مثلاً ایک رپورٹ ڈنمارک کی ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، ڈینش عوام کا رد عمل یہ ہے کہ اخبار کی معذرت کے بعد مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معذرت کو مان لیں اور اس مسئلے کو پر امن طور پر ختم کریں تا کہ اسلام کی اصل تعلیم ان تک پہنچے اور Violence سے بچ جائیں۔پھر یہ ہے کہ ٹی وی پر پروگرام آ رہے ہیں کہتے ہیں کہ یہاں کے بچے ڈینشوں کے خلاف رد عمل دیکھ کر کہ ان کے ملک کا جھنڈا جلایا جا رہا ہے، ایمبیسیز جلائی جارہی ہیں بہت ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔وہ یہ محسوس کر رہے ہیں گویا جنگ کا خطرہ ہے اور ان کو مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اب عوام میں بھی اور بعض سیاستدانوں میں بھی اس کو دیکھ کر انہوں نے نا پسند کیا ہے اور ایک رد عمل یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مسلمانوں کی اس دلآزاری کے بدلے میں خود ہمیں ایک بڑی مسجد مسلمانوں کو بنا کر دینی چاہئے جس کا خرچ یہاں کی فر میں ادا کریں اور کوپن ہیگن کے سپریم میئر نے اس تجویز کو پسند کیا ہے۔پھر مسلمانوں کی اکثریت بھی جیسا کہ میں نے کہا کہتی ہے کہ ہمیں معذرت کو مان لینا چاہئے لیکن ان کے ایک لیڈر ہیں جو 27 تنظیموں کے نمائندے ہیں وہ یہ بیان دے رہے ہیں کہ اگر چہ اخبار نے معذرت کر دی ہے تاہم وہ ایک بار پھر ہمارے سب کے سامنے آ کر معذرت kh5-030425