خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد چهارم 505 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجے کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔بے چینی ہو رہی ہوتی ہے۔جب انتہائی درجے کا اضطرار پیدا ہو جاتا ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔پس یہ کیفیت ہے۔جب ہم اپنے اندر ایسی کیفیت پیدا کر لیں تو ہم میں سے ہر ایک خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق قبولیت دعا کے نظارے دیکھے گا۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس رمضان میں اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اللہ کے آگے جھکنے اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج پھر میں چند قرآنی دعائیں آپ کے سامنے پیش کروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر ، مختلف مواقع پر قرآن کریم میں ہمیں بتائی ہیں۔ایک دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائی وہ اپنے اور پہلوں کے لئے حصول مغفرت اور دلوں میں سے کینوں کو دور کرنے کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ نیک بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اس طرح دعا کرتے ہیں۔کہ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوْبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ (الحشر: 11) اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم پر سبقت لے گئے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے کوئی کینہ نہ رہنے دے۔اے ہمارے رب یقینا تو بہت شفیق اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس میں جہاں اپنے لئے بخشش کی دعا سکھائی گئی ہے کہ تم اپنے لئے دعا مانگو وہاں ان لوگوں کے لئے بھی جو پہلے ایمان لانے والے ہیں، پہلے گزر چکے ہیں بخشش کی دعا مانگنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دین کے بارے میں کسی قسم کا استحقاق نہیں ہوتا۔جو اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق جوڑے گا ، جو تقویٰ پر قدم مارنے والا ہو گا ، جو بے نفس ہو کر جماعت کی خدمت کرنے والا ہوگا اور پھر جن پر اللہ تعالیٰ اپنا خاص فضل فرمائے گا ان کو خدمت دین کی زیادہ توفیق ملتی ہے۔وہ آگے آنے والوں میں بھی ہوتے ہیں، ان کو دیکھ کر دوسروں میں حسد اور کینے کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ایسے لوگوں پر رشک آنا چاہئے۔ان جیسا بننے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اپنی حالتوں کو بھی بدلنا چاہئے اور اپنے لئے بھی دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں جیسا بنا جواللہ کا قرب پانے والے ہیں، یا تقویٰ پر چلنے والے ہیں، جو بے نفس ہو کر جماعتی خدمات کرنے والے ہیں، جو تیرے ایسے بندے ہیں جو خالصتا تیری رضا پر چلنے والے ہیں، جن پر تیرے فضلوں کی بارش برستی نظر آ رہی ہے۔جب اس طرح kh5-030425