خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 445
445 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم کی خدمت میں عرض کی کہ اے براء بن مالک اپنے رب کو قسم دیں کہ وہ ان کو ہماری خاطر شکست دے دے۔آپ نے دعا کی اَللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ لَنَا وَاسْتَشْهِدْنِی کہ اے اللہ ان کو ہماری خاطر شکست دے اور مجھے شہادت عطا فرما۔( اپنی شہادت کی بھی ساتھ دعا کی ) آپ مستجاب الدعوات تھے۔ان کی دعا ئیں بڑی قبول ہوتی تھیں۔اس دعا کے بعد مسلمانوں نے دشمنوں کو شکست دی اور ان کو ان کی خندقوں میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا۔اور پھر حملہ کر کے ان کے شہر میں داخل ہو گئے اور شہر کا احاطہ کر لیا۔التاریخ الکامل لابن اثیر جلد 2 صفحہ 368 حالات سنه ثمان عشرة دار الكتاب العربی بیروت 1997 ء ) ایک دوسری روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں آتا ہے ، 18 ہجری کا واقعہ ہے۔نہاوند میں حضرت سعد بن ابی وقاص مسلمانوں کے کمانڈ رتھے۔جراح بن سنان الاسدی نے حضرت عمر کی خدمت میں ان کے خلاف شکایات بھیجیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں محمد بن مسلمہ کی ڈیوٹی تھی کہ جو شخص کسی کی شکایت کرتا آپ اس کی تحقیق کیا کرتے تھے۔وہ سعد کو ساتھ لے کر اہل کوفہ میں گھومے پھرے اور ان سے ان کے بارے میں پوچھتے تھے۔جس کسی دوست کو بھی انہوں نے پوچھا سب نے اس کی تعریف کی سوائے ان لوگوں کے جو الجراح الاسدی کی طرف مائل ہو چکے تھے وہ خاموش رہے وہ کچھ نہ بولتے تھے اور نہ ہی وہ انہیں کوئی الزام دیتے تھے۔( یہ جو طریقہ ہے یہ بھی سچ بولنے کے خلاف ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈھکے چھپے الفاظ میں غلط کام کی تائید کی جارہی ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ) یہاں تک کہ محمد بن مسلمہ ، بنی عبس میں پہنچے اور ان سے پوچھا۔اسامہ بن قتادہ نے کہا: اللہ گواہ ہے وہ نہ تو برابر تقسیم کرتا ہے اور نہ ہی فیصلہ میں عدل کرتا ہے اور نہ ہی جنگ میں لڑنے جاتا ہے۔اس پر سعد نے کہا: اے اللہ! اگر اس نے دکھاوے، جھوٹ اور سنی سنائی بات کی ہے تو اس کی نظر اندھی کر دے اور اس کے اہل وعیال کو بڑھا دے، اسے فتنوں میں ڈال۔پس وہ اندھا ہو گیا۔اسکی دس بیٹیاں تھیں۔پھر حضرت سعد نے ان فتنہ پردازوں کے خلاف دعا کی۔اے اللہ! اگر یہ لوگ شرارت فخر کے اظہار اور دکھاوے کے لئے نکلے ہیں تو ان پر جنگ مسلط کر۔(اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے جنگ کی اور الجراح حضرت حسن بن علی کے حملے کے وقت تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوا، قبیصہ پتھروں سے کچلا گیا اور اربد تہ تیغ ہوا۔التاریخ الکامل لابن اثیر جلد 2 صفحہ 390-391 حالات سنة ثمان عشرة دار الكتاب العربی بیروت 1997ء) تو ان صحابہ کی دعاؤں کا یہ اثر ہوتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی خوشخبری دی تھی کہ صرف یہی لوگ نہیں جن پر میرے پیار کی نظر ہے جو تیرے اردگر دروشن ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور دنیا کی ہدایت کا موجب بن رہے ہیں۔جن کی دعاؤں کو میں تیری وجہ سے قبولیت کا درجہ دیتا ہوں اور دوں گا۔تیرا چلایا ہوا یہ سلسلہ