خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 393
393 خطبه جمعه 11 / اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کی سب سے بڑی دلیل یہ دی ہے کہ اس کی طاقتیں لامحدود ہیں صرف اور صرف وہی ذات ہے جو بے قرار کی دعا کو سنتا ہے۔لیکن پھر بھی اکثر لوگ اس بات کو بھول کر اس طرف جھکتے ہیں ، اُن کو خدا سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو خدا کی مخلوق ہیں۔پس یہ اعلان ہی اصل میں اسلام کی بنیاد ہے کہ مجھے پکارو ، میں سنوں گا۔اور ایمان میں مضبوطی سبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک سچا مسلمان اس بات کا خود تجربہ کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے شرائط رکھی ہیں۔اس نے بھی بندوں کو کچھ راستے دکھائے ہیں کہ ان پر چل کر میرے پاس آؤ۔تو ان راستوں کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔تبھی وہ ہمیں زمین کے وارث بنائے گا۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس زمانے میں ان راستوں کی واضح پہچان ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کروائی ہے۔پس اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنا بھی ہمارا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اور جس کی وضاحت اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔اپنے قرب کی پہچان اور اپنے بندوں کی پکار کو سننے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ یوں فرمایا ہے کہ ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ لیکن فرمایا کہ تم بھی اس بات پر عمل کرو کہ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ رْشُدُونَ﴾ (البقرة:187)۔یعنی چاہئے کہ وہ بھی میری عبادت کریں۔اللہ کے بندے بھی میری عبادت کریں، میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایسا ایمان ضروری شرط ہے جو تمام دنیاوی ذریعوں کو پیچھے پھینک دے اور اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان ہو، اس کے احکامات پر مکمل عمل ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسا بناویں کہ میں ان سے ہم کلام ہوسکوں۔اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا ان کو میری راہ ملے۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 159) اور جب یہ کامل ایمان پیدا ہو جائے تو پھر اس بندے کے لئے جو بہترین ہو ( کیونکہ بندہ غیب کا علم نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ جو بہترین سمجھتا ہے ) اس کے مطابق اسے نوازتا ہے۔ضروری نہیں ہوتا کہ ہر دعا اسی رنگ میں پوری ہو جائے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ بندے کے لئے کیا بہتر ہے۔بہر حال جب انسان دعا کرتا ہے اور خالص ہو کر کرتا ہے تو اللہ تعالی سنتا ہے۔اور یہی دعا ہی ہے جس سے پھر خدا تعالیٰ کی پہچان ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔دنیا میں جس قدر قو میں ہیں، کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے روبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دعا کروں تو یہ