خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد چهارم 31 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء طرح روح داخل ہو گئی۔اسی روز سے سارے خیالات ترک کر کے حضور کی تحریر و تقریر کا شیدائی بن گیا۔اس کے بعد ایک عرصہ تحصیل میں صرف کر کے اور معاملے کے ہر پہلو پر غور کر کے صداقت کا قائل ہو گیا۔عملی قدم اٹھاتے وقت قسم قسم کے خطرات اور مشکلات کا بھیانک منظر سامنے آیا۔کمزوری سے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ صداقت کو معلوم کر لیا ہے اب خاموش ہو جانا چاہئے۔لوگوں کے پاس ظاہر کر کے مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے اور خاموش ہو گیا۔خاموش ہو جانے کے بعد جن کاموں کے خراب ہو جانے سے خاموشی اختیار کی تھی وہ خراب ہونے شروع ہو گئے۔اور ایک کے سوا سب کے سب خراب ہو گئے۔وہ ایک کام جو بھی خراب نہیں ہوا تھاوہ میرے والد مرحوم کا سود درسود کا قرضہ تھا۔اس کے متعلق یہ ڈر تھا کہ احمدی ہو جانے کے بعد سا ہو کار مجھے بہت ذلیل کرے گا۔(لیکن کہتے ہیں کہ ساہوکار مع تمام افراد خاندان طاعون سے ہلاک ہو گیا اور اس کا تمام مال و اسباب سرکار میں داخل ہوا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہا)۔تو کہتے ہیں کہ جب صرف یہی کام خراب ہونے سے باقی رہ گیا تو مجھے یہ یقین ہو گیا کہ عنقریب یہ بھی خراب ہوگا۔میں نے ہر چہ باداباد کہ کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر بیعت کا خط لکھ دیا اور اعلان کر دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل کے دامن میں چھپا لیا اور مسیح موعود کے حضور حاضر ہو کر بیعت کر لی۔اور مکرمی شیخ عرفانی صاحب کے ذریعہ حضرت سے خاص ملاقات کر کے استقلال کی خاص دعا کی۔حضرت ابر رحمت نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا: ”اچھا بھئی دعا کریں گئے“۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 7 صفحہ 98 میاں محمد الدین صاحب آف کھاریاں لکھتے ہیں کہ: "میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ آریہ بر ہمود ہر یہ لیکچراروں کے بداثر نے مجھے اور مجھ جیسے اور افسروں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان اثرات کے ماتحت لا یعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں ،صفحہ 90 کے حاشیہ نمبر 4 اور صفحہ نمبر 1949 کے حاشیہ نمبر 11 پر پہنچا تو معامیری دہریت کا فور ہوگئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کہ کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا جاگ کر زندہ ہو جاتا ہے۔سردی کا موسم تھا جنوری 1893ء کی 19 تاریخ تھی۔آدھی رات کا وقت تھا کہ جب یہی ہونا چاہئے اور ہے کہ مقام پر پہنچا۔پڑھتے ہی معا توبہ کی، کورا گھڑا پانی کا بھرا ہوا باہر صحن میں پڑا تھا۔تختہ چوپائی پیمائش کی میرے پاس رکھی ہوئی تھی۔سرد پانی سے لاچا تہ بند پاک کیا۔میر املا زم مسمی منکو سورہا تھا۔وہ جاگ پڑا اور مجھ سے پوچھا کیا ہوا، کیا ہوا، لا چا مجھ کو دومیں دھوتا ہوں۔مگر میں اس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔آخر منگتو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا۔اور گیلا لا چا پہن کر نماز پڑھنی شروع کی kh5-030425