خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 25

خطبات مسرور جلد چهارم 25 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء کہ : ” نام اور نمود، ریا ، ظاہر داری ، علمی گھمنڈ، تکبر ہر گز نہیں تھا۔دوران قیام قادیان میں جب بھی کوئی کہتا مولوی صاحب! فوراً روک دیتے کہ مجھے مولوی مت کہو ، میں نے تو ابھی مرزا صاحب سے ابجد شروع کی ہے، الف ب شروع کی ہے۔(ماہنامہ انصار اللہ ربوہ ستمبر 1977 صفحہ 12 اور یہ ایسے بڑے عالم تھے ان کے علم کی عظمت کی حضرت مسیح موعود نے مثال دی ہے۔مدرسہ احمدیہ کے جاری کرنے کی بھی وجہ بنے تھے۔حضرت میاں محمد خان صاحب رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: حبی فی اللہ میاں محمد خان صاحب ریاست کپور تھلے میں نوکر ہیں ، نہایت درجہ کے غریب طبع ، صاف باطن، دقیق فہم حق پسند ہیں۔اور جس قدرا نہیں میری نسبت عقیدت و ارادت و محبت اور نیک ظن ہے میں اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔مجھے ان کی نسبت تردد نہیں کہ ان کے اس درجہ ارادت میں کبھی کچھ ظن پیدا ہو بلکہ یہ اندیشہ ہے کہ حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔وہ بچے وفادار اور جاں نثار اور مستقیم الاحوال ہیں۔خدا ان کے ساتھ ہو۔ان کا نوجوان بھائی سردار علی خان بھی میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہے۔یہ لڑکا بھی اپنے بھائی کی طرح بہت سعید ورشید ہے۔خدا تعالیٰ ان کا محافظ ہو“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 532 ) پھر قاضی ضیاء الدین صاحب کا نمونہ ہے۔قاضی عبدالرحیم صاحب سناتے تھے کہ ایک دفعہ والد صاحب یعنی قاضی ضیاء الدین صاحب نے خوشی سے بیان کیا کہ میں وضو کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود سے آپ کے ایک خادم حضرت حافظ حامد علی صاحب نے میرے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔تو حضور نے میرا نام اور پتہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔چنانچہ قاضی صاحب اس بات پر فخر کیا کرتے تھے۔اور ( تعجب سے ) کہا کرتے تھے کہ حضور کو میرے دل کی کیفیت کا کیونکر علم ہو گیا۔یہ اسی عشق کا نتیجہ تھا کہ حضرت قاضی صاحب نے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ میں بڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعود کے در پر لے آیا ہوں اب میرے بعد اس دروازے کو کبھی نہ چھوڑنا۔اصحاب احمد۔جلد نمبر 6 صفحہ 8-9) حضرت مولوی حسن علی بھا گلوری کا نمونہ ہے۔بیان اس طرح ہوا ہے کہ 13 جنوری 1894 ء میں اپنے امام سے رخصت ہو کر لاہور میں آیا اور ایک بڑی دھوم دھام کا لیکچر انگریزی میں دیا جس میں حضرت اقدس کے ذریعہ سے جو کچھ روحانی فائدہ ہوا تھا اس کا بیان کیا۔جب میں سفر پنجاب سے ہو کر مدراس پہنچا kh5-030425