خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 21

21 خطبہ جمعہ 13 / جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم نہیں لگنے دیا اور بعد میں لوگ ان سے ناراض بھی ہوئے تھے۔اس طرح اخلاص میں بڑھے ہوئے تھے۔پھر حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب حضرت مسیح موعود کے عشق میں تحریر فرماتے ہیں کہ : ”اے میرے آقا ! میں اپنے دل میں متضاد خیالات موجزن پاتا ہوں ، ایک طرف تو میں بہت اخلاص سے اس امر کا خواہاں ہوں کہ حضور کی صداقت اور روحانی انوار سے بیرونی دنیا جلد واقف ہو جائے اور تمام اقوام و عقائد کے لوگ آئیں اور اس سر چشمہ سے سیراب ہوں جو اللہ تعالیٰ نے یہاں جاری کیا ہے۔لیکن دوسری طرف اس خواہش کے عین ساتھ ہی اس خیال سے میرا دل اندوہ گین ہو جاتا ہے کہ جب دوسرے لوگ بھی حضور سے واقف ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں یہاں آنے لگیں گے۔تو اس وقت مجھے آپ کی صحبت اور قرب جس طرح میسر ہے اس سے لطف اندوز ہونے کی مسرت سے محروم ہو جاؤں گا۔ایسی صورت میں حضور دوسروں میں گھر جائیں گے۔حضور والا مجھے اپنے پیارے آقا کی صحبت میں بیٹھنے اور ان سے گفتگو کرنے کا جو مسرت بخش شرف حاصل ہے اس سے مجھے محرومی ہو جائے گی ایسی متضاد خواہشات یکے بعد دیگرے میرے دل میں رونما ہوتی ہیں۔قاضی صاحب نے مزید کہا کہ : ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میری بات سن کر مسکرا دیئے۔(اصحاب احمد۔جلد نمبر 6 صفحہ 10) دیکھیں کیا عشق و محبت کے پاک نظارے ہیں۔پھر حضرت چوہدری محمد اکبر صاحب روایت کرتے ہیں کہ صحابی موصوف چوہدری نذر محمود صاحب تھے جو اصل متوطن اور حمہ ضلع شاہ پور تھے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کے رشتہ داروں میں سے تھے وہ ڈیرہ غازی خان میں ملازم تھے۔جہاں تک اس عاجز کو یاد ہے وہ روایت کرتے تھے کہ سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہونے سے پہلے ان کی حالت اچھی نہ تھی اور وہ اپنی اہلیہ کو پوچھتے تک نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک زمانے میں ہدایت بخشی اور شناخت حق کی توفیق دی جس کے بعد ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا شوق ہوا چنا نچہ وہ قادیان دارالامان گئے مگر وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ حضور کسی مقدمے کی وجہ سے گورداسپور تشریف لائے ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ گورداسپور گئے اور ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اور ملاقات کا موقع ملا جب حضور بالکل اکیلے تھے۔اور چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔چنانچہ انہوں نے حضور کو دبانا شروع کر دیا اور دعا کی درخواست کی۔اتنے میں کوئی اور دوست حضور کی ملاقات کے لئے آیا جنہوں نے حضور کے سامنے ذکر کیا کہ اس کے سسرال نے اپنی لڑکی بڑی مشکلوں سے اسے دی ہے ( یعنی واپس بھجوائی ہے)، اب اس نے بھی ارادہ کیا ہے کہ وہ اُن کی لڑکی کو ان کے پاس نہ بھیجے گا۔( شاید آپس میں شادیاں ہوئی kh5-030425