خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد چہارم 259 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء سے عرض کی گئی کہ لوگوں میں سے کون افضل ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مغموم القلب اور صدوق اللسان۔اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی ہمیں صدوق اللسان کا تو علم ہے۔یہ مغموم القلب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاک وصاف دل جس میں کوئی گناہ ، کوئی کبھی اور کوئی بغض ، کینہ اور حسد نہ ہو۔(سنن ابن ماجه، کتاب الزهد، باب الورع والتقوى حدیث نمبر (4216 پس ایک سچے مسلمان کی نشانی، ایک بچے احمدی کی نشانی اور اس کا مقام یہ ہے کہ مغموم القلب بننے کی کوشش کرے۔گناہوں سے بچے ، اپنے دل کے ٹیڑھے پن کو دور کرے، بغض، کینہ اور حسد سے بچتے ہوئے اپنے پر جہنم حرام کرے اور اس دنیا میں بھی پُر سکون زندگی کی وجہ سے جنت حاصل کرنے والا ہو اور آخرت میں بھی جنت کا وارث بنے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں گزشتہ اقوام کی حسد اور بغض کی بیماری راہ پا گئی ہے اور یہ مونڈھ کر رکھ دینے والی ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈھتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈھ دیتی ہے، مجھے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایمان نہ لاؤ اور تم کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں باہمی محبت پیدا نہ کرو اور میں تمہیں اس کا گر بتاتا ہوں وہ یہ کہ تم آپس میں سلام کو رواج دو۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الزبير بن العوام، جلد نمبر 1 حدیث نمبر 1412صفحه نمبر 451-450 عالم الكتب ایڈیشن 1998ء بيروت) پس یہ بات بھی ہر احمدی کو اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے۔آپس کے سلام محبت پیدا کرنے کے لئے ہیں۔یہ نہیں ہے کہ اوپر سے تو سلام کر رہے ہوں اور اندر سے بغض اور کینے اور حسد کی وجہ سے دوسروں کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہوں۔شکایت کے جھوٹے پلندوں کی بھر مار ہو رہی ہو۔اگر دل اس دو عملی سے پاک اور صاف نہیں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ دل پاک نہیں ہے اور اس میں کامل ایمان بھی نہیں ہے۔پھر بغیر سوچے سمجھے دوسرے پر عیب لگانے کی عادت ہے، الزام لگانے کی عادت ہے۔ایسے لوگوں کو جو دوسرے پر عیب لگاتے ہیں خدا تعالیٰ نے فاسق اور ظالم کہا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے کہ ولا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقَ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ﴾ (الحجرات : 12) اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام kh5-030425