خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد چهارم 135 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006 ء کے موقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان عفو اور امان کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر ایک دستے پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن مسلمانوں کے سامنے اس وقت کوئی نہیں ٹھہر سکا تھا۔اس لئے فتح مکہ کے بعد جان بچانے کیلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی معافی کی طالب ہوئی تو آپ نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے اسے معاف فرما دیا۔اور پھر جب وہ اپنے خاوند کو لینے کیلئے جب گئی تو عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہیں آتا تھا کہ میں نے اتنے ظلم کئے ہوئے ہیں، اتنے مسلمان قتل کئے ہوئے ہیں ، آخری دن تک میں لڑائی کرتا رہا تو مجھے کس طرح معاف کیا جاسکتا ہے۔بہر حال وہ کسی طرح یقین دلا کر اپنے خاوند عکرمہ کو واپس لے آئی۔چنانچہ جب عکرمہ واپس آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔پہلے تو آپ دشمن قوم کے سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے کہ یہ دشمن قوم کا سردار ہے اس لئے اس کی عزت کرنی ہے۔اس لئے کھڑے ہو گئے اور پھر عکرمہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔(ماخوذ مؤطا امام مالك كتاب النكاح و شرح زرقاني على مؤطا الامام مالك باب نكاح المشرك اذا اسلمت زوجته قبله، حدیث نمبر (1183) عکرمہ نے پھر پوچھا کہ اپنے دین پر رہتے ہوئے ؟ یعنی میں مسلمان نہیں ہوا۔اس شرک کی حالت میں مجھے آپ نے معاف کیا ہے، آپ نے مجھے بخش دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر عکرمہ کا سینہ اسلام کیلئے کھل گیا اور بے اختیار کہ اٹھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ واقعی بے حد حلیم اور کریم اور صلہ رحمی کرنیوالے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گیا۔(السیرۃ الحلبیہ - جلد سوم صفحه 109 مطبوعہ بیروت) تو اسلام اس طرح حسن اخلاق سے اور آزادی ضمیر و مذہب کے اظہار کی اجازت سے پھیلا ہے۔حسن خلق اور آزادی مذہب کا یہ تیر ایک منٹ میں عکرمہ جیسے شخص کو گھائل کر گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں اور غلاموں تک کو یہ اجازت دی تھی کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔لیکن اسلام کی تبلیغ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے بارے میں بتاؤ کیونکہ لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔یہ خواہش اس لئے ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا قرب عطا کرے گی اور تمہاری ہمدردی کی خاطر ہی ہم تم سے یہ کہتے ہیں۔چنانچہ ایک قیدی کا ایک واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف مہم بھیجی kh5-030425