خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 80

خطبات مسرور جلد سوم 80 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء تعلیم کے خلاف کھڑا ہوگا۔پھر ایک اور موقع پر آپ کے صادق ہونے پر دشمن کی گواہی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابوسفیان بن حرب نے بتایا کہ جب وہ شام کی طرف ایک تجارتی قافلے کے ساتھ گیا ہوا تھا تو ایک دن شاہ روم ، ہر قل نے ہمارے قافلے کے افراد کو بلا بھیجا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت وہ کچھ سوالات پوچھ سکے۔شہنشاہ روم کے دربار میں ہر قل سے اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا کہ اس نے مجھ سے کچھ سوال کئے۔ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کیا دعوئی سے پہلے تم لوگ اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے جوابا کہا کہ نہیں۔اس پر ہر قل نے ابوسفیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تو نے میرے اس سوال کا جواب نفی میں دیا تو میں نے سمجھ لیا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ باندھنے سے باز ہے مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باند ھے۔ہر قل نے کہا مَاذَا يَأْمُرُكُمْ کہ محمد آپ کو کس چیز کا حکم دیتے ہیں۔ابوسفیان نے کہا وہ کہتا ہے، اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہی معبود ہے اور اس کا کسی چیز میں شریک نہ قرار دو اور ان باتوں کو جو تمہارے آباؤ اجداد کہتے تھے چھوڑ دو۔اور وہ ہمیں نماز قائم کرنے ، سچ بولنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔تب ہر قل نے کہا کہ جو تو کہتا ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر عنقریب میرے قدموں کی اس جگہ کا بھی وہی مالک ہو جائے گا۔پھر باوجود نہ ماننے کے آپ کی سچائی کا رعب تھا، اُس نے بھی اندر سے مخالفین کے دل دہلائے ہوئے تھے۔اور وہ اس فکر میں رہتے تھے کہ اس بچے آدمی کی اگر یہ باتیں اور یہ تعلیم بھی کچی ہوئی تو ہمارا کیا ہوگا۔اس خوف کا ایک واقعہ میں اس طرح ذکر ہے کہ قریش نے ایک دفعہ سردار عتبہ کو قریش کا نمائندہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔اس نے کہا آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں۔آپ کی جو بھی خواہش ہے ہم پوری کر دیتے ہیں، آپ ان باتوں سے باز آئیں۔حضور تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورۃ ختم فُصِّلَتُ کی چند (بخاری-کتاب بدء الوحى ،حدیث نمبر7)