خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد سوم 81 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء آیات تلاوت کیں۔جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں تو اس پر عتبہ نے آپ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور خوف کے مارے اٹھ کر چل دیا۔اس نے قریش کو جا کر کہا کہ تمہیں پتہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آ جائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔تمام سردار یہ سن کر خاموش ہو گئے۔(السيرة الحلبية از علامه برهان الدین باب عرض قريش عليه ﷺ اشياء من خوارق العادات وغير العادات۔۔۔۔۔۔۔پھر آپ کی سچائی کی گواہی صرف اتنی نہیں کہ ایک آدھ مثالیں مختلف طبقات میں سے مل جاتی ہیں بلکہ پوری قوم نے جمع ہو کر آپ کے صادق القول ہونے پر گواہی دی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وَ انْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِيْنَ﴾ (الشعراء: 215) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور بیدار کر کے احکام اترے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے قریش! اگر میں تم کو یہ خبر دوں ، یہ بتاؤں ) کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے۔تو کیا تم میری بات کو مانو گے۔اور پہاڑی اتنی اونچی نہیں تھی اور ) بظاہر یہ ایک بالکل نا قابل قبول بات تھی ( لیکن کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ بشخص جھوٹ نہیں بولتا، کبھی کوئی غلط بات نہیں کہہ سکتا) مگر سب نے ( یک زبان ہو کر ) کہا کہ ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔( ہمیشہ سچی بات کہنے والا پایا ہے آپ نے فرمایا تو پھر سنو، میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔“ (سیرت خاتم النبین مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 128) بہر حال یہ باتیں سن کے قریش وہاں سے چلے گئے اور ہنسی مذاق اور ٹھٹھا کرنے لگے، تعلیم کا مذاق اڑایا۔لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہہ سکے کہ آپ جھوٹے ہیں۔آپ کو بہت