خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 734
خطبات مسرور جلد سوم 734 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء عمل کرنے والے ہوں کہ : ”اے سننے والو سنو کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم اُس کے ہو جاؤ ، اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو، نہ آسمان میں نہ زمین میں“۔اللہ ہمیں ایسا بنا دے، ہم اس کے ہر حکم پر عمل کرنے والے بن جائیں۔اس کی عبادت کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بن جائیں۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے لئے قربانی کی مثالیں ہمیں جماعت احمدیہ کے اندر نظر آتی ہیں۔زبان، معاشرہ، قبیلہ، قوم، ملک مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی پہچان ہے، ایک دوسرے کے لئے قربانی کا شوق ہے۔آج آپ دیکھ لیں بہت سے لوگ مختلف جگہوں سے آئے ہیں جو اس حسین معاشرے کے گواہ ہیں۔قادیان کی مختصر سی احمدی آبادی آنے والوں کے لئے کس طرح خوشی سے اپنے آراموں کو تج کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت پر کمر بستہ ہے۔اپنے گھر مہمانوں کو دیئے ہوئے ہیں۔جن کے زیادہ مہمان آ رہے ہیں، انہوں نے اگر صحنوں میں گنجائش ہے تو صحنوں میں چھولداریاں یا خیمے لگا کر رہائش کی جگہیں بنائی ہوئی ہیں۔یہ نظارے دیکھ کر ربوہ کے جلسوں کے نظارے بھی نظر کے سامنے گھوم جاتے ہیں ، جب وہاں جلسے ہوتے تھے تو یہی نظارے نظر آتے تھے۔یہ بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل ربوہ اور اہل پاکستان کی بے بسی کے دن بھی اپنے فضلوں سے بدلے اور وہ چہل پہل ، وہ رونقیں ، وہ قربانیوں کی مثالیں، دوبارہ وہاں جاری ہو جائیں۔تو بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ خدا کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آنے والے مہمانوں کی اہل قادیان خوب خدمت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے اور یہ سب اپنے گھر بار اور جو بھی دوسری سہولتیں میسر ہیں، اس پاک مقصد کے لئے آنے والے مہمانوں کے لئے مہیا کر رہے ہیں۔24 گھنٹے ان کے لئے اپنی خدمات وقف کی ہوئی ہیں۔لیکن جب کام کی زیادتی ہو تو غیر ارادی طور پر بعض دفعہ کارکنان سے مہمانوں کی دل آزاری ہو جاتی ہے۔کارکنان کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے ، جیسا کہ کل بھی میں نے مختصراً کارکنان کے معائنہ کے وقت خطاب میں کہا