خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 676 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 676

خطبات مسرور جلد سوم 676 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک دستاویز لکھی کہ عداء بن خالد بن هو ذه نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام خریدا جس کے اندر نہ تو کوئی بیماری ہے اور نہ کوئی اخلاقی خرابی و خباثت ہے۔یہ دو مسلمانوں کا آپس میں ایک سودا ہے (جس میں کسی طرح کی دھو کے بازی نہیں کی گئی)۔(ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء في كتابة الشروط) تو دیکھیں کس طرح اور کس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محتاط ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور تقویٰ کا جو معیار تھا اس تک تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔یقینا آپ نے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد یہ تحریر لکھوائی ہوگی۔اس غلام کو اچھی طرح پر کھنے اور دیکھنے کے بعد اس پر یہ اعتماد قائم ہوا ہو گا۔آپ نے کھول کر بتا دیا کہ یہ باتیں میں اس کے متعلق کہہ رہا ہوں۔بعض دفعہ انسانی طبیعتوں کا پتہ بھی نہیں چلتا لیکن یہ جو باتیں کہی ہیں تم بھی ان کا جائزہ لے لو کہ یہ ایسا ہی ہے جس طرح میں نے کہا ہے اور ہر چیز کھول کر بیان کر دی۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ کسی سے قرض لیا۔پھر آپ کے پاس زکوۃ کے کچھ اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ اس آدمی کا نو عمر اونٹ واپس کر دو۔میں نے کہا ان اونٹوں میں سے صرف ایک اونٹ ہے جو بہت عمدہ ہے اور سات سال کا ہے۔تو آپ نے فرمایا وہی اسے دے دو اس لئے کہ بہترین آدمی وہ ہے جو بہترین طریق پر قرض ادا کرتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب المساقات، باب جواز اقتراض الحيوان) تو دیکھیں قرض کی حسن ادائیگی ، معاشرے میں محبت و پیار پھیلانے کا طریق۔لوگ تو آمنے سامنے کے سودوں پر بھی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح دھوکہ دینے کی کوشش کریں۔پھر زمانہ نبوت سے پہلے بھی لین دین کے معاملے میں تجارت میں ، آپ کے اعلیٰ خلق کے بارے میں روایت میں آتا ہے، حضرت ابی سائب سے روایت ہے کہ ہم آپ کے ساتھ جاہلیت کے زمانے میں کاروبار میں شراکت کرتے لیکن ہم نے آپ کو کبھی دھوکے بازی اور جھگڑا کرتے نہیں دیکھا۔