خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 677
خطبات مسرور جلد سوم 677 خطبہ جمعہ 18 نومبر 2005ء اگر آج اس اسوہ پر عمل ہو تو بہت سارے جھگڑوں سے معاشرہ محفوظ ہو سکتا ہے۔تحریریں بھی لکھی جاتی ہیں۔اس کے باوجود بھی جھگڑے ہوتے ہیں۔مقدمے بازیاں چلتی ہیں اور سالوں تک ان مقد مے بازیوں کی وجہ سے دونوں فریق وقت کے ساتھ ساتھ اپنا مالی نقصان بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے مُحارب بن دثار روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض ادا کرنا تھا چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری رقم ادا فرمائی اور میری رقم سے زائد بھی عنایت فرمایا۔(سنن ابی داؤد - كتاب البيوع ـ باب في حسن القضاء) یہ اس طرح رقم ادا کرنا کوئی سود نہیں ہے۔بلکہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قرضے کی احسن رنگ میں ادا ئیگی ہے کہ قرض کی ادائیگی اس طرح احسن طور پر ہو، اس طرح شکریہ کے ساتھ کی جائے کہ میں تمہارا ممنون ہوں تم نے وقت پر میری ضرورت پوری کی اور اس شکر کے اظہار کے طور پر میں تمہیں یہ زائدا اپنی خوشی سے دے رہا ہوں۔تو یہی وہ اُسوہ ہے جس سے معاشرے میں محبت اور امن کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔دار قطنی کی ایک لمبی روایت ہے جس میں راوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابتدائی زمانے میں مشرکین مکہ کے ظالمانہ سلوک کا نقشہ کھینچا ہے۔پھر اسلام کے غالب آنے کے بعد جب تمام عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرنگیں تھا اس وقت کا آپ کے لین دین کا واقعہ بیان کیا ہے۔طارق بن عبداللہ المحاربی کہتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ایک قافلے کے ساتھ مدینہ کے قریب آکر پڑاؤ کیا۔اس پڑاؤ کے دوران ایک شخص سفید کپڑوں میں ملبوس ہمارے پاس آیا اور سلام کیا۔(جولین دین سے تعلق والا حصہ ہے وہ میں بیان کر رہا ہوں ) اور پھر ہم سے پوچھا آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ رمضہ سے آئے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک سرخ اونٹ بھی تھا ( اس زمانے میں سرخ اونٹ کافی مہنگے اونٹوں میں شمار ہوتے تھے ) تو اس آنے والے شخص نے ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم