خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 665
خطبات مسرور جلد سوم 665 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء اچھا گھر اور باقی سہولتیں تمہارے آرام و آسائش کے لئے ہیں اور یہ چیزیں تمہاری زینت میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ اصل زینت تقویٰ میں ہے اور تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنا ہے۔پس یہ خیال رکھو یہ دنیاوی زینتیں تمہیں اصل زینت سے غافل نہ کر دیں تمہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے دور نہ لے جائیں۔تمہاری عبادتیں اور تمہارے اعلیٰ اخلاق ہی اصل میں تمہاری زینت ہیں۔تمہارے مال جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیئے ہیں، تمہیں اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مزید چلانے والے ہوں۔ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس زمانے میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے طفیل اس پر حکمت تعلیم کو سمجھا۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے ، تو بہ واستغفار کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے توجہ بھی دیتے ہیں اور اس کی راہ میں اس کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ بھی کرتے ہیں۔اور یہی سوچ ایک احمدی کی ہونی چاہئے۔ہماری بڑائی اور زینت گردن اکڑا کے چلنے اور اپنے پیسے کے اظہار میں نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے اس کے حکموں پر عمل کرنے اور اس کی راہ میں خرچ کرنے میں ہے۔پس جب تک ہم میں یہ سوچ قائم رہے گی ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بھی حصہ پاتے چلے جائیں گے اور اس کے فضلوں کے وارث بھی بنتے چلے جائیں گے۔اس زمانے میں جس میں مادیت کا دور دورہ ہے احمدی ہی ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے اس کے گھر بھی تعمیر کرتا ہے اور اس کی عبادت سے اپنے آپ کو سجانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔اپنی نسلوں میں بھی ان کی اعلیٰ تربیت کے ذریعہ یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔اس ضمن میں مجھے یاد آیا کہ ہمارے بچپن میں تحریک جدید میں ایک مد مساجد بیرون کی بھی ہوا کرتی تھی۔ہر سال جب بچے پاس ہوتے تھے تو عموماً اس خوشی کے موقع پر بچوں کو بڑوں کی طرف سے کوئی رقم ملتی تھی۔وہ اس میں سے اس مد میں ضرور چندہ دیتے تھے یا اپنے جیب خرچ سے دیتے تھے۔یہ مداب بھی شاید ہو۔حالات کی وجہ سے پاکستان میں تو میں اس پر زور نہیں دیتا لیکن باہر