خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 666
خطبات مسرور جلد سوم 666 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء پتہ نہیں، ہے کہ نہیں اور اسے اب بیرون کہنے کی تو ضرورت بھی نہیں۔عموماً مساجد کی ایک مدہونی چاہئے اس میں جب بچے پاس ہو جائیں تو اس وقت یا کسی اور خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں چندہ دیا کریں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں بے شمار احمدی بچے امتحانوں میں پاس ہوتے ہیں۔اگر ہر سال ذیلی تنظمیں اس طرف توجہ دیں ، ان کو کہیں اور جماعتی نظام بھی کہے کہ اس موقع پر وہ اس مد میں اپنے پاس ہونے کی خوشی میں چندہ دیا کریں تو جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کی خاطر مالی قربانی کی عادت ڈال رہے ہوں گے وہاں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل سمیٹتے ہوئے اپنا مستقبل بھی سنوار رہے ہوں گے۔والدین بھی اس بارے میں اپنے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں ترغیب دلائیں تو اللہ تعالیٰ ان والدین کو بھی خاص طور پر اس ماحول میں بہت سی فکروں سے آزاد فرمادے گا۔اللہ کرے کہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق عبادتیں کرنے والے بھی ہوں جس طرح آپ جماعت کو بنانا چاہتے تھے۔اور مشرق و مغرب میں مسجدوں کا جال پھیلانے والے بھی ہوں۔اور پھر ان مسجدوں کو تقوی سے پر دلوں سے بھرنے والے بھی ہوں۔انشاء اللہ تعالیٰ مساجد کی تعمیر سے بہت سے تبلیغی راستے کھلیں گے اور اللہ کے فضل سے کھلتے بھی ہیں۔لیکن اس کے لئے ہمیں بھی توبہ و استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار قائم کرنے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔آج اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر یہاں کے پرانے احمدیوں کو یقیناً ان دو مخلصین کی یاد بھی آ رہی ہوگی جو یہاں کے ابتدائی احمدیوں میں سے ہیں جنہوں نے یہاں جماعت قائم کی۔ایک وقت ایسا آیا کہ اپنے بچوں کے بڑے ہونے کی وجہ سے وہ یہاں سے شفٹ ہونا چاہتے تھے ،شاید پاکستان جانا چاہتے تھے۔لیکن حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کے ارشاد پر کہ پہلے یہاں جماعت بنائیں اور پھر جائیں۔ایک مشنری روح کے ساتھ انہوں نے یہاں کام کیا اور جماعت بنائی تبلیغ کی، مقامی لوگوں میں بھی احمدیت پھیلی۔اور پھر اس جماعت کی تربیت اور ان مقامی لوگوں کے پیار کی وجہ سے اور تبلیغ کا جو مزا اُن کو آ چکا تھا اس وجہ سے وہ واپس جانے کا