خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 505
خطبات مسرور جلد سوم 505 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور بظاہر معمولی سی بھی غلط بیانی سے بچنا چاہئے۔جیسا کہ اس بچے کی ماں کو آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تم اس بچے کو کچھ نہ دیتیں تو یہ بھی جھوٹ ہوتا۔یہ ایسی چیز ہے جو آج کل عام ہوئی ہوئی ہے۔مذاق مذاق میں بھی اتنے جھوٹ بولے جا رہے ہوتے ہیں کہ جس کی انتہا نہیں۔ہر احمدی کو جس کے اندر بھی ہو، اپنے اندر سے اس برائی کو جڑ سے اکھیڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر آپ بڑے حوصلے سے برداشت کیا کرتے تھے اور اگر کوئی انتہائی نا پسندیدہ شخص بھی آپ کے پاس آ جاتا اس سے بھی آپ کبھی بداخلاقی سے پیش نہیں آئے بلکہ بڑے حو صلے سے اس کی بات سنا کرتے تھے۔اور اگر کوئی غلط حرکت کر جاتا تھا تو اس کو بھی بڑے اچھے طریقے سے برداشت کر لیا کرتے تھے۔بعض دفعہ بعض بدو گاؤں کے لوگ آیا کرتے تھے جو بعض حرکتیں کر جاتے اور صحابہ کو اس پر بڑا غصہ چڑھا کرتا تھا۔لیکن آپ علیل اللہ نہایت خوشی سے اچھے طریقے سے سمجھا دیتے تھے لیکن کبھی غصہ نہیں کیا۔ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد میں ایک اعرابی آیا اور وہیں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔لوگ اس کی طرف لپکے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کرتے ہوئے فرمایا۔اس کو چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ڈول بہا دو تم لوگوں کی آسانی کے لئے پیدا کئے گئے ہو نہ کہ تنگی کے لئے “ (بخارى - كتاب الوضوء - با ب صب الماء على البول في المسجد) ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ بعد میں وہ بد ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا ہمیشہ تذکرہ کیا کرتا تھا۔اور کہتا تھا کہ رسول کریم علی السلام پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے کس طرح محبت سے مجھے سمجھایا۔مجھے کوئی گالی نہیں دی۔سرزنش نہیں کی ، مارا پیٹا نہیں بلکہ آرام سے سمجھا دیا۔تو دیکھیں ایک ان پڑھ کو پیار سے سمجھانے سے ہی اس کی کایا پلٹ گئی۔پھر بدظنی ایک ایسی برائی ہے بلکہ ایک زہر ہے جو معاشرے میں فساد پیدا کر دیتی ہے اور