خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 491
خطبات مسرور جلد سوم 491 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء چنانچہ ایک روایت میں ذکر آتا ہے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جب آپ سے بات کرنے لگا تو وہ کانپنے لگ گیا۔اس پر آپ نے اس کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تسلی رکھو میں کوئی بادشاہ تو نہیں۔میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔(سنن ابن ماجه - كتاب الاطعمة - باب القديد) یه خدا دا در عب کسی تخت و تاج کو نہیں چاہتا تھا بلکہ سادگی اور عاجزی میں ہی اس کا حسن تھا۔اس حدیث کو بیان کرنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ متکبر خدا تعالیٰ کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو۔خدا تعالیٰ کے تمام وعدے بھی خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خدا تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کا میابیاں اگر چہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی ، مگر آپ کو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں، آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔“ - ( ملفوظات جلد 5 صفحه 548 جدید ایڈیشن - الحکم 26 /30/ اگست 1908ء صفحه 3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اتنی سادہ تھی اور ماحول اس قدر گھلا ملا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ہر کوئی آ سکتا تھا، ہر کوئی اپنی ضرورت پوری کروا سکتا تھا۔جو بھی ان کی ڈیمانڈ ہوتی تھی پوری کرنے کے لئے لوگ آجایا کرتے تھے۔چاہے وہ معمولی سی کوئی لونڈی ہو۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی اپنے کام کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر جہاں چاہتی لے جاتی اور آپ انکار نہ فرماتے اور اس کا کام کرتے۔(رياض الصالحين باب التواضع۔وخفض الجناح للمؤمنين) یہ بے تکلف اور سادہ ماحول تھا جو کسی سے چھپا ہوا نہیں تھا اور آپ کی یہ سادگی اور قناعت ایسی تھی جس کا اثر غیروں پر بھی تھا اور اس زمانے میں بھی اور یہ ہر جگہ نظر آتی ہے۔