خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 489

خطبات مسرور جلد سوم 489 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فقیر، دنیا دار لوگوں سے بھری دنیا سے بھی زیادہ بہتر ہے۔(رياض الصالحين - باب فضل ضعفة المسلمين) ایک فقیر مسکین نیک مسلمان کو آپ نے کئی دنیا داروں کے مقابلے پر ترجیح دی۔اس لئے کہ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ایک فقیر اور مسکین اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔اسی لئے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں۔اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے؟ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزرنہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔“ 66 (ملفوظات جلد سوم صفحه 370 جدید ایڈیشن - الحکم 7 جولائی 1903ء صفحہ 16'15) پھر آپ کی جو خوراک تھی کتنی سادہ اور معمولی ہوا کرتی تھی اس کا ذکر روایات میں ملتا ہے۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ بھانجے ہم دیکھتے رہتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔اس پر میں نے پوچھا خالہ ! پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم کھجور میں کھاتے اور پانی پیتے تھے۔سوائے اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے انصاری تھے ان کے دودھ دینے والے جانور تھے وہ رسول اللہ کو ان کا دودھ تحفہ بھیجتے تھے جو آپ ہمیں پلا دیتے تھے۔(بخارى كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها – باب فضل الهبة) پھر آپ کی سادہ خوراک کے بارے میں روایت آتی ہے۔سہل بن سعد سے روایت ہے ان سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنے ہوئے آٹے کی چپاتی کھائی